مقبوضہ جموں و کشمیر

خامنہ ای کی شہادت ، ایران پر حملہ کھلی جارحیت ہے : حریت کانفرنس

مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو جیسی پابندیوں کی شدیدمذمت

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت اور ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں تقریباً 180 اسکول بچوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم لیڈر کے قتل کو غیر اخلاقی، غیر قانونی، قابل مذمت اور بین الاقوامی قانون اور عالمی استحکام پر سنگین حملہ قرار دیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔انہوں نے قتل پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک سنگین اور غیر مستحکم کرنے والا عمل قرار دیا جس کے علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین مضمرات ہیں۔ حریت ترجمان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بی جے پی حکومت کی طرف سے عائد کرفیو جیسی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز کی بھاری تعداد میںموجودگی کے باعثکشمیری سات دہائیوں سے زائد عرصے سے مسلسل محاصرے میں زندگی گزاررہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بی جے پی حکومت اور بھارتی فوجی اسٹیبلشمنٹ کشمیریوں کو حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے کشمیری عوام کے عزم کا اعادہ کیا۔ترجمان نے کہا کہ بھارت نے کشمیری عوام سے قدرتی وسائل اور بنیادی آزادیاں چھین رکھی ہیں جو طویل عرصے سے پیدائشی حق خود ارادیت سمیت اپنے سیاسی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں کوکالے قوانین کے تحت بے پناہ اختیارات حاصل ہیں اوروہ مقبوضہ علاقے میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر کی زمینی صورتحال کے بارے میں دنیا کو مسلسل گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری قانونی اور اخلاقی طور پر پابند ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جاری بھارتی مظالم کو روکے اور بھارت کو کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرنے اور انہیں ان کا حق خودارادیت دینے پر مجبور کرے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا، خطے میں امن و استحکام قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی پاک بھارت تعلقات پائیدار بنیادوں پر بہتر ہو سکتے ہیں۔
دریں اثناءحریت رہنما فیاض حسین جعفری اور سید سبط شبیر قمی نے بھی اپنے بیانات میں ایران پر امریکی و اسرائیل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کو کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران کیے گئے اس حملے نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امریکی اسرائیل دشمنی کو بے نقاب کیا۔حریت رہنماو¿ں نے کہا کہ یہ حملہ مزاحمت کو مضبوط کرے گا اور بالآخر جارحین کی شکست کا باعث بنے گا۔
ادھرکل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر شاخ کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کہا کہ ایران پر حملوں سے مشرق وسطیٰ غیر مستحکم ہوگا اور علاقائی امن اور ترقی کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کوئی حل نہیں ہے اور اس سے انسانی مشکلات، مہنگائی اور قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ فاروق رحمانی نے بھارت کے وزیر اعظم مودی کے دورہ اسرائیل اور افغان طالبان کے پاکستان پر حملوں کی مذمت تے ہوئے کہاکہ ان واقعات کے پیچھے ایک سازش ہے ۔ انہوں نے مسلمان ممالک کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ اپنے ختلافات کو بات چیت اور پرامن طریقے سے حل کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button