بھارتی فورسز کشتواڑ میں ظالمانہ کارروائیوں کے دوران شہریوں کو ہراساں کررہی ہیں

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسزنے ضلع کشتواڑ سمیت مختلف اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جہاںوہ لوگوں کو ہراساں کررہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گزشتہ ماہ چھاترو میں ایک جعلی مقابلے میں تین نوجوانوں کی شہادت کے بعد بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اورپولیس کے ا سپیشل آپریشنز گروپ نے کشتواڑ بھر میں گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ فوجیوں نے شہید نوجوانوں کی میتوں کو نذرآتش کرنے کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیاتھا ۔ بھارتی فوسزکے اہلکار سرکاری ملازمین سمیت عام شہریوں سے پوچھ گچھ کررہے ہیں اورانہیں مجاہدین کے معاونین قراردے کر ہراساں کر رہے ہیں جس سے ضلع بھر میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ڈوڈہ، ادھم پور اور کٹھوعہ اضلاع میں بھی اسی طرح کی تلاشی مہم جاری ہے۔ قابض حکام نے لوگوں کی تصاویر فرانزک معائنے کے لیے بھیجی ہیں جس سے بقول ان کے تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کرنے والوں کے خلاف ثبوٹ فراہم ہونگے۔بھارتی فورسز منظم جبر کو جاری رکھنے اور کشمیری عوام کی امنگوں کو دبانے کے لیے یہ کارروائیاں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون(UAPA) جیسے کالے قوانین کے تحت کر رہی ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں کئی دہائیوں سے ظلم وجبر کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کو بڑھتے ہوئے تشدد، ہراسانی اور من مانی گرفتایوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔








