World

جنیوا:عالمی برادری سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

جنیوا: کشمیری نمائندوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس میں ہائی کمشنر بریفنگ پر عام بحث کے دوران بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ورلڈ مسلم کانگریس کے نمائندے الطاف حسین وانی نے خطے میں بلاجواز گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور کالے قوا نین کے بے دریغ استعمال سے اختلاف رائے کو دبانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے منظم نگرانی اور ڈیجیٹل محاصرے کی مذمت کرتے ہوئے ہیومن رائٹس کی نگرانی کو تیز کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینے پر زور دیا۔
سردار امجد یوسف خان نے انٹرنیشنل ایکشن فار پیس اینڈ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کی طرف سے بات کرتے ہوئے 2019 کے بعد سے تشدد کے حیرت انگیز اعداد و شمار پیش کیے، جن میں ایک ہزار سے زائد ہلاکتیں اور ہزاروں گرفتاریاں شامل ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی رسائی پر سخت پابندیوں کو اجاگر کیا اور ہائی کمشنر پر زور دیا کہ وہ جوابدہی کے خلا کا جائزہ لینے کے لیے او ایچ سی ایچ آر کی تیسری رپورٹ جاری کریں۔
شمیم شال نے انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کی نمائندگی کرتے ہوئے صنفی بنیادوں پر سنگین بحران پر توجہ مرکوز کی اور کشمیری خواتین کے خلاف دہائیوں سے جاری جنسی تشددکی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں خواتین کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر او ایچ سی ایچ آر کی ایک مفصل رپورٹ کی فوری اشاعت کا مطالبہ کیا۔
حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے جنرل سیکرٹری  ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے بحران کی سنگینی کو ظاہر کرنے والے اہم واقعات، بالخصوص جبری گمشدگیوں، کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحات شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے فوری انعقاد کی اشد ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔
حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے رہنما شیخ عبدل متین نے بھی مباحثے میں ویڈیو لینک کے ذریع حصہ لیا ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button