مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو بھارتی فوجیوں کی طرف سے جنسی تشدد سمیت مختلف جرائم کا سامنا ہے
مظفرآباد:
کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک سیمینار میں مقررین نے کہاہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین کو قابض بھارتی فوجیوں کی طرف سے جنسی تشدد سمیت مختلف جرائم کا سامنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقررین نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پرزودیاکہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے خواتین کے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کافوری نوٹس لے۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی متنازعہ علاقے میں خواتین کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک سنگین جرم ہے اور عالمی اداروں کو اس معاملے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔سیمینار کے شرکا نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو عملًا ایک کھلی انسانی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں خواتین عدم تحفظ اور خوف ودہشت کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔مقررین نے واضح کیاکہ آزاد کشمیر میں خواتین کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور یہاں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین نافذ ہیں، جن میں ویمن پروٹیکشن ایکٹ بھی شامل ہے، جو خواتین کو قانونی اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کودرپیش مسائل اور ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات کرے۔







