بھارت میں ہندو فسطائیت کا عفریت
سرکاری سرپرستی میں منظم اقلیت کُش کاروائیوں میں 98.5 فیصد کا ہدف مسلمان: برطانوی رپورٹ
ارشد میر
دنیا کے سامنے خود کو سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرنے والا بھارت آج ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں جمہوریت، مذہبی رواداری اور انسانی حقوق جیسے دعوے کھوکھلے نعرے بن چکے ہیں۔ زمینی حقائق اس تصویر سے بالکل مختلف ہیں جو بھارتی حکومت اور اس کے حامی گودی میڈیا کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تازہ ترین بین الاقوامی رپورٹس اور بھارت کے مختلف حصوں سے آنے والی خبریں واضح کرتی ہیں کہ ملک میں ہندو قوم پرستی اور فسطائی نظریات کس حد تک مضبوط ہو چکے ہیں اور کس منظم انداز میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف بھارت کی جمہوری ساکھ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے بلکہ عالمی امن اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
برطانیہ کے معروف تعلیمی ادارے کنگز کالج لندن کے ٹرانس نیشنل لا کلینک کی ایک تازہ تحقیقی رپورٹ نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سطح پر ہونے والے ظلم و ستم کو بے نقاب کیا ہے۔ آزاد بین الاقوامی ماہرین کے ایک پینل کی تیار کردہ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پورے بھارت میں بحیثت مجموعی اور اتر پردیش و آسام جیسی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاستوں میں بطور خاص مسلمانوں کے خلاف ریاستی جبر منظم پالیسی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس مقابلوں کے نام پر قتل، من مانی گرفتاریاں، امتیازی قوانین اور مسلمانوں کی املاک کو مسمار کرنے جیسے اقدامات ایک منظم مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا اور انہیں سماجی و معاشی طور پر کمزور بنانا ہے۔
اتر پردیش کی مثال اس حوالے سے انتہائی تشویشناک ہے جہاں پولیس کے مبینہ “انکاؤنٹر کلنگز” ایک معمول بنتے جا رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یہ بھارت کی سب سے بڑی مسلم آبادی کی حامل ریاست ہے مگر اسمبلی سے لیکر انتظامیہ تک مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور اس پہ مستزاد یہ کہ بی جے پی نے وہاں کئی برسوں سے کٹر مسلم دشمن ہندو سادھو آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ بنا رکھا ہے جو مسلمانوں پر تشدد اور امتیاز و استحصال کی سرپرستی کررہا ہے۔ کنگز کالج لندن کے ٹرانس نیشنل لا کلینک کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق صرف 2025 کے دوران ہی یو پی میں کم از کم چھ مسلمان پولیس مقابلوں میں شہید کئے گئے۔ انسانی حقوق کے ماہرین نے ان واقعات کو مشکوک اور ماورائے عدالت قتل قرار دیا۔ اسی طرح متنازعہ “بلڈوزر جسٹس” کا رجحان بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔ اس پالیسی کے تحت مسلمانوں کے گھروں اور کاروباری مراکز کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کیا جا رہا ہے حالانکہ بھارتی سپریم کورٹ اس عمل کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔ اس کے باوجود ریاستی حکومتیں کھلے عام اس عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون اور عدالتی فیصلے بھی سیاسی مفادات کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔
آسام میں صورتحال کسی طور کم سنگین نہیں ہے جہاں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کے متنازعہ عمل کے ذریعے تقریباً 20 لاکھ بنگالی نژاد مسلمانوں کی شہریت خطرے میں ڈال دی گئی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں ہزاروں افراد حراستی مراکز میں بند کیے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق یہ دراصل مسلمانوں کو بے وطن بنانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ 2017 سے اب تک جبری بے دخلیوں اور ریاستی کارروائیوں کے دوران آٹھ مسلمانوں کو گولی مار کر ہ قتل کیے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جو اس پالیسی کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔
اس رپورٹ میں نفرت انگیز تقاریر کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں 74 فیصد اضافہ ہوا اور 1,165 واقعات میں سے تقریباً 98.5 فیصد کا ہدف مسلمان تھے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ بھارت میں اسلاموفوبیا اب محض سماجی تعصب نہیں رہا بلکہ اسے سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔ ہندو انتہا پسند تنظیمیں کھلے عام مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیتی ہیں جبکہ ریاستی ادارے اکثر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔
عالمی سطح پر بھی بھارت کی اس صورتحال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی مسلسل چھ سال سے بھارت کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث “تشویش کا خاص ملک” قرار دینے کی سفارش کر رہا ہے۔ اس کے باوجود بھارتی حکومت نہ صرف ان الزامات کو مسترد کرتی ہے بلکہ کسی بھی بین الاقوامی تحقیقات کی اجازت دینے سے بھی انکار کرتی ہے۔ یہ طرز عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت عالمی برادری کے سامنے جوابدہی سے بچنا چاہتی ہے۔
دوسری جانب بھارت کی مختلف ریاستوں میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات اور ہجومی تشدد کے واقعات اس خطرناک رجحان کی مزید عکاسی کرتے ہیں۔ ریاست اڈیشہ میں گزشتہ بیس ماہ کے دوران 54 فرقہ وارانہ فسادات اور ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے سات واقعات رپورٹ ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مذہبی بنیادوں پر نفرت اور تشدد کا کلچر کس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ریاست میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس دوران فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سیاسی قوتیں مذہبی تقسیم کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
ہجومی تشدد یا “ماب لنچنگ” بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ایک خوفناک رجحان بن چکا ہے۔ اکثر یہ واقعات گائے کے تحفظ یا مذہبی جذبات کے نام پر پیش آتے ہیں۔ حقیقت میں یہ تشدد مذہبی انتہا پسندی اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کے ماحول کا نتیجہ ہے۔ ان واقعات میں اکثر حملہ آوروں کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جس کے باعث انہیں سزا سے بچ نکلنے کا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔
مہاراشٹرا کے شہر کراڈ میں بجرنگ دل کے کارکنوں کی جانب سے دو مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور انہیں گائے کا گوبر کھانے پر مجبور کرنے کا واقعہ اس صورتحال کی تازہ اور انتہائی شرمناک مثال ہے۔ متاثرہ افراد کے مطابق انہیں صرف ان کی مسلم شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ پولیس نے شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ طرز عمل ظاہر کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اکثر تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں اور مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
اس طرح کے واقعات صرف انفرادی تشدد نہیں بلکہ ایک وسیع تر نظریاتی رجحان کا حصہ ہیں۔ ہندو قوم پرستی کے علمبردار بھارت کو ایک خالص ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق اقلیتوں کو یا تو دوسرے درجے کا شہری بن کر رہنا ہوگا یا پھر انہیں سماجی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے حاشیے پر دھکیل دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین، نفرت انگیز بیانات اور تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت نے دہائیوں سے اپنی نا م نہاد جمہوریت کی جس نیلم پری کے حسن سے دنیا کو مسحور کیا تھا اب اسکے چہرے سے نقاب سرک کر اصل اور کریہہ ہندو فسطائی صورت عیاں ہورہی ہے۔ ایک حقیقی جمہوری ریاست میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ بنیادی اصول ہوتا ہے۔ لیکن جب ریاستی پالیسیاں ہی کسی خاص مذہبی یا نسلی گروہ کے خلاف امتیاز پر مبنی ہوں تو پھر جمہوریت محض ایک رسمی ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے۔ بھارت میں آج یہی ہو رہا ہے جہاں انتخابی جمہوریت تو موجود ہے مگر سماجی انصاف اور مذہبی برابری کے اصول تیزی سے زوال پذیر ہیں۔
بین الاقوامی برادری کے لیے بھی یہ صورتحال ایک امتحان ہے۔ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے تو اسے بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور اقلیتوں کے خلاف منظم ظلم و ستم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ غیر جانبدار تحقیقات کے ذریعے حقیقت کو سامنے لائیں اور بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی آئینی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
بھارت میں ہندو فسطائیت کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف وہاں کی اقلیتوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ریاستی سرپرستی میں نفرت اور تعصب کو فروغ دیا گیا تو اس کے نتائج ہمیشہ تباہ کن نکلے۔ اگر بھارت واقعی خود کو ایک ذمہ دار جمہوری ریاست ثابت کرنا چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر اس خطرناک راستے سے واپس آنا ہوگا اور اپنے آئین میں درج سیکولر اور جمہوری اصولوں کی حقیقی معنوں میں پاسداری کرنا ہوگی۔ بصورت دیگر ہندو قوم پرستی کا یہ عفریت نہ صرف بھارت کے اندرونی امن کو تباہ کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا۔






