افغانستان میں پاکستان کی کارروائیوں پر بھارت کا بیان غیر ضروری اور منافقانہ ہے: دفترخارجہ
اسلام آباد:دفتر خارجہ (ایف او) نے افغانستان میںپاکستان کی کارروائیوں کے بارے میں بھارتی وزارت خارجہ کے تنقیدی بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان لغو، غیر ضروری،شرمناک اور منافقانہ ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری ہے جو فروری کے آخر میں سرحد پار سے افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ایک دن پہلے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسل نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں پاکستان کے حملوں کے نتیجے میںمتعدد شہریوں کی موت ہوئی ہے اور ان کارروائیوں کو جارحیت قرار دیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں اوران کے معاون اڈوں کے خلاف پاکستان کی جائز، ٹارگٹڈ اور درست کارروائیوں کے خلاف بیان نہ صرف مضحکہ خیز اور غیر ضروری بلکہ شرمناک حد تک منافقانہ بھی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کے لیے بھارت کی حمایت اور سرپرستی سے ساری دنیا واقف ہے۔فتنہ الخوارج ایک اصطلاح ہے جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جبکہ فتنہ الہندوستان کی اصطلاح بلوچستان میں قائم دہشت گرد تنظیموں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ اس طرح کے بیانات افغانستان میں اپنی دہشت گرد فرنچائز کی تباہی پر بھارت کی مایوسی کو ظاہرکرتے ہیں جوقابل فہم ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بھارت انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیر قانونی طورپر قابض ہے، اور مقبوضہ علاقے میں ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کررہا ہے۔







