مقبوضہ جموں و کشمیر

شبیر احمد شاہ کی ضمانت کڑی پابندیوں سے مشروط

نئی دہلی:
بھارتی سپریم کورٹ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کو حال ہی میں ایک جھوٹے مقدمے میں ضمانت دی ہے، تاہم ضمانت کے احکامات میں ان کی نقل و حرکت، مواصلات اور عوامی بیانات پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے 12 مارچ کو ضمانت منظور کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ شبیر شاہ ٹرائل کورٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر دہلی نہیں چھوڑیں گے اور اگر انکے پاس پاسپورٹ ہے تو انہیں وہ بھی سرنڈر کرنا ہوگا۔ عدالت نے انہیں اس کیس کے حوالے سے میڈیا میں کوئی تبصرہ کرنے سے بھی روک دیا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ شبیر شاہ صرف ایک موبائل فون یا لینڈ لائن نمبر استعمال کریں، جس کی تفصیلات اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے ساتھ شیئر کی جائیںاور ڈیوائس کو ہر وقت آن رکھنا چاہیے۔
بنچ نے انہیں مزید ہدایت کی کہ وہ ہر پندرہ دن میں ایک بار، بدھ یا جمعرات کو صبح 10 سے 11 بجے کے درمیان نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے ) کے تفتیشی افسر کو رپورٹ کریں۔سپریم کورٹ نے شبیر شاہ کی طویل قید اور مقدمے کی کارروائی میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں ریلیف دیا ہے ۔
74 سالہ شبیر احمد شاہ تقریباً آٹھ برس سے زائد عرصے سے جھوٹے مقدمات میں دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں ہیں۔ ضمانت کے احکامات کے باوجود شبیر احمد شاہ تاحال جیل میں ہی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button