انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا کشمیری صحافی عرفان معراج کی فوری رہائی کا مطالبہ
سرینگر: انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموںنے کشمیری صحافی عرفان معراج کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے جنہیں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے تین قبل گرفتارکیاتھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس سمیت انسانی حقوق کی تقریباً تین درجن تنظیموںنے کہا کہ عرفان معراج کو اپنے فرائض انجام دینے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف روزیوں کو اجاگرکرنے پر گرفتارکیاگیا تھا۔تنظیموں نے کہا کہ یہ مقدمہ علاقے میں حساس مسائل پر کام کرنے والے صحافیوں اور محققین پر بڑھتے ہوئے دباو کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی (JKCCS) کے کوآرڈینیٹراور انسانی حقوق کے کشمیری کارکن خرم پرویز کی نظربندی کو بھی اجاگرکیا جنہیں 2021 سے نظربند رکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموںنے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں بندکرے اور ایسے قوانین پر نظر ثانی کرے جو بغیر کسی مقدمے کے طویل نظربندی کی اجازت دیتے ہیں۔ انہوں نے مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میںانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے میں ناکام رہی۔تنظیموں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ صورت حال پر گہری نظر رکھے اور صحافیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے تحفظ کو یقینی بنائے تاکہ خطے میں پریس کی آزادی اور بنیادی شہری آزادیوں کو برقرار رکھا جاسکے۔عرفان معراج کو مارچ 2023 میں علاقے میں بھارتی افواج کی بربریت کو اجاگرکرنے پربھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے گرفتار کیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں موجودہ صورتحال اگست 2019 میں علاقے کی خصوصی آئینی حیثیت کی منسوخی کا نتیجہ ہے۔ بھارت کی وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پالیسی میں تبدیلی کے بعد ہزاروں افراد کو گرفتارکیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیری نظربندوں کو بھارتی جیلوں میں منتقل کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے ان کے اہل خانہ اور وکلا ءکو ان کے ساتھ رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔






