بھارت -امریکہ تجارتی معاہدہ کسانوں کے لیے ‘ڈیتھ وارنٹ’ہے، بھارتیہ کسان یونین

کروکشیتر:مجوزہ بھارت -امریکہ تجارتی معاہدے کی وجہ سے کسان شدیدخوف میں مبتلا ہیں اور بھارتیہ کسان یونین (چارونی)کے سربراہ گرنام سنگھ چارونی نے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کے زرعی شعبے کے لیے "ڈیتھ وارنٹ” ہوگا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کروکشیتر میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے گرنام سنگھ چارونی نے کہا کہ اس معاہدے بھارت میں زراعت کا شعبہ کارپوریٹ گھرانوں کے حوالے کر کے کسانوں کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاجائے گا۔انہوں نے دعوی کیا کہ کسان پہلے ہی اپنی پیداوار کے لیے کم سے کم امدادی قیمت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ معاہدہ اناج منڈیوں کو بند کرنے کا باعث بنے گا، کسانوں کا مزید استحصال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرمودی حکومت معاہدے پر دستخط کرتی ہے تو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے اور کسان بی جے پی لیڈروں کو اپنے علاقوں میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ریلی، جس میں ہریانہ، اتر پردیش، پنجاب، راجستھان، اور اتراکھنڈ کے کسانوں نے شرکت کی،فصلوں کی کم سے کم امدادی قیمت کی ضمانت، کسانوں کے قرض کی معافی اور فصل کے نقصانات کے لیے بہتر معاوضے کے مطالبات بھی دہرائے گئے ۔ یونین لیڈروں نے کہا کہ بی جے پی حکومت بیرونی دبائو میں کسانوں کے مفادات پرسمجھوتہ کر رہی ہے۔بی کے یو(چارونی)کے ترجمان راکیش بینس نے اعلان کیا کہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے وزیر اعلیٰ کے ساتھ 2 اپریل کو ملاقات طے ہے۔






