APHC-AJK

آسیہ اندرابی ، انکی ساتھیوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، فیض نقشبندی

بھارت نے کشمیری خواتین رہنماﺅں کو مبنی برحق موقف ترک نہ کرنے پر نشانہ بنایا ہے، ینگ مینز لیگ

 

اسلام آباد :کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے سینئر رہنما سید فیض نقشبندی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی توجہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی( این آئی اے) کی خصوصی عدالت کے ایک حالیہ فیصلے کی طرف مبذول کرائی ہے جس میں کشمیری حریت رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید اور انکی ساتھوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو جھوٹے مقدمات میں تیس تیس برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید فیض نقشبندی نے سیکرٹری جنرل کے نام ایک خط میں کہا کہ آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں کو غیر قانونی بھارتی قبضے کو چیلنج کرنےکی پاداش میںسیاسی انتقا م کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جھوٹے مقدمات میں عمر قید کی سزا دراصل اختلاف رائے کو طاقت کے بل پر دبانا اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بات کرنے والوں کو سزا دینا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی توجہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی طرف مبذول کراتے ہوئے لکھا کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں نو لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کر کے اسے ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ہر کشمیر ی خوف ودہشت اور گھٹن کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
دریں اثنا جموںوکشمیر ینگ مینز لیگ نے ایک بیان میں آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں کو عمر قید کی سزا کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے محض ایک سیاسی انتقام اور حق پر مبنی کشمیریوں کی آواز کو دبانے کا مذموم ہتھکنڈہ قرار دیا۔ینگ مینز لیگ کے چیئرمین نصیر وانی اور سیکرٹری جنرل شاہد رفیق نے سرینگر میں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ اختلاف رائے کو جرم بنانے اور حق خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کو دبانے کی ایک منظم کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آسیہ اندرابی اور انکی ساتھوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین نے مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کر کے کوئی جرم نہیں کیا ہے ، بھارت نے انہیں حق و صداقت کے موقف پر مضبوطی سے قائم رہنے پر نشانہ بنایا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button