بھارت کی شمالی ریاستوں کو”آئی اے ایس اور آئی پی ایس ”افسران کی شدید کمی کا سامنا

نئی دلی:بھارت کی شمالی ریاستیں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس اور انڈین پولیس سروس کے افسران کی نمایاں کمی کا شکار ہیں، جس سے گورننس اور انتظامی امور پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لوک سبھا میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ ریزرو کیٹیگری کی پوسٹوں کا کوئی بیک لاگ موجود نہیں، تاہم ہریانہ، ہماچل پردیش اور پنجاب میں مجموعی طور پرآئی اے ایس افسران کی 18.6 فیصد جبکہ آئی پی ایس افسران کی 15.59 فیصد کمی پائی جاتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اگر ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش اور نئی دلی سمیت AGMUTکیڈر کو یکجا کیا جائے توافسران کی یہ کمی بڑھ کر 24فیصد تک پہنچ جاتی ہے، جہاں 2,010منظور شدہ آسامیوں میں سے 482نشستیں خالی ہیں۔
پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ حکومت ہر سال 4فیصد کوٹے کے تحت بینچ مارک خصوصی (معذور) افراد کے لیے 180 آئی اے ایس افسران بھرتی کرتی ہے۔ حکام کے مطابق آسامیوں کی بڑی وجہ ریٹائرمنٹ، گورننس کی بڑھتی ضروریات اور ریاستی کیڈرز کی تنظیم نو ہے۔
وزیراعظم آفس میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کیرالہ، AGMUTاور ہماچل پردیش وہ خطے ہیں جہاں آئی اے ایس افسران کی سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق کیرالہ میں آئی اے ایسافسران کی سب سے زیادہ کمی ہے، جہاں 231منظور شدہ آسامیوںمیں سے 74نشستیں خالی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں افسران کی یہ کمی نہ صرف انتظامی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ پالیسی سازی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے، جس کے لیے فوری اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔








