مقبوضہ کشمیر :جلیل اندرابی کا بہیمانہ قتل بھارتی جمہوریت کے ماتھے پر بدنما دھبہ
اہلخانہ تاحال انصاف سے محروم ،حریت کانفرنس کا شہید کو30ویں برسی پر خراج عقیدت

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کے معروف علمبردار ایڈووکیٹ جلیل اندرابی کے بہیمانہ قتل کو 30 برس کا ایک طویل عرصہ گزر چکا لیکن شہید کے اہلخانہ تاحال انصاف سے محروم ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جلیل اندرابی کو 8 مارچ 1996 کو بھارتی فوج کی 35 ویں راشٹریہ رائفلز کے میجر اوتار سنگھ نے گرفتار کیا تھا۔ تین ہفتے بعد 27 مارچ 1996 کو ان کی بوری بند لاش سری نگر کے پادشاہی باغ کے قریب دریائے جہلم سے برآمدہوئی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بدترین تشدد کی بھی تصدیق ہوئی تھی۔ بھارت نے میڈیا میں شوروغل اٹھنے کے بعد میجراوتار سنگھ کو سزا دینے کی بجائے امریکہ فرارکروادیا۔
بھارتی فوج نے ایک معروف وکیل اور حقوق کے محافظ جلیل اندرابی کو صرف اور صرف اس بنا پر قتل کیا کیونکہ وہ نہتے کشمیریوں پر جاری بھارتی فورسز کے وحشانہ مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے ۔ انہوںنے انسانی حقوق کی پامالیوں کو دستاویزی شکل بھی دی تھی۔وہ بھارتی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوئے اور اپنی آخری سانس تک ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے۔
42سالہ جیل اندابی کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات تھے ، ان کے سرمیں گولی ماری گئی تھی ۔لاش برآمد ہونے سے کم از کم ایک ہفتہ قبل انہیں شہید کر دیاگیاتھا۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ کہ انہیں 8 مارچ کی شام 6 بجے کے قریب بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفل کے اہلکاروں نے اپنے گھر سے چند سو گزکے فاصلے پر اس وقت حراست میں لیا جب وہ اپنی گاڑی میں جا رہے تھے ۔ مقبوضہ علاقے کی بارایسوسی ایشن نے انکی گرفتاری کے حوالے سے9مارچ کو ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی ۔ عدالت نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فوج کو جلیل اندرابی کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ تاہم قابض فوج نے انکی گرفتاری سے انکار کیا ۔ بعد ازاں تین ہفتے بعد انکی لاش برآمد ہوئی ۔
دریںاثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سری نگر میں جاری ایک بیان میں کشمیر کاز کے لیے اندرابی کی قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جیلیل اندرابی اور دیگر بیگناہ کشمیریوں کا بہیمانہ قتل بھارت کی نام نہاد جمہوریت پر ایک بدنما دھبہ ہے ۔ترجما ن نے کہا کہ کشمیری عوا م جلیل اندرابی اور دیگر لاکھوں شہداءکی قربانیوں کو ہرگز فراموش نہیں کریں گے اور انکے مقدس مشن کی تکمیل تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ دریں اثنا، کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے بھی اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں جلیل اندرابی کو انکی شہادت کی 30ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشیا واچ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کا محاسبہ کریں۔








