بھارت : رام نومی کے جلوس کے دوران ہندو انتہاپسندوں کا مسلمانوں پر حملہ، دکانیں نذرآتش
کولکتہ: بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں رام نومی کے جلوس کے دوران ہندو انتہاپسندوںنے مسلمانوں اور ان کی املاک پر حملہ کیا، لوٹ مار کی اور کئی دکانوں کونذرآتش کردیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ واقعہ ضلع مرشدآباد میں جنگی پور سب ڈویژن کے علاقےپھولتلہ میں پیش آیا جہاں زیادہ تر مکانات، چھوٹے کاروبار، پھلوں کے سٹالز اور کھانے پینے کی دکانوں کا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے۔کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب رام نومی کا جلوس ایک مسجد کے سامنے سے گزرا جہاں نماز جمعہ جاری تھی اور جلوس میں شریک ہندو انتہاپسند بلند آواز میں موسیقی بجاتے او ر رقص کرتے رہے۔ نمازیوں نے مبینہ طور پر اعتراض کیا اور درخواست کی کہ جلوس کو نماز کے اختتام تک موخر کیا جائے لیکن ہندو انتہاپسندوں نے انکارکردیا ۔جیسے ہی جلوس پھولتلہ موڑ کی طرف بڑھا تو صورتحال مزید بگڑ گئی کیونکہ ہندو انتہاپسندمسلمانوں کے گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے،ہندوتوا جھنڈے لہرائے، املاک کی توڑ پھوڑ کی، دکانوں کو نذرآتش کردیا اور رہائشیوں پر حملہ کیا۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بھارتی پولیس اور پیراملٹری فورسز کی موجودگی کے باوجود حملہ کافی عرصے تک جاری رہا لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہ واقعہ رگھوناتھ گنج پولیس اسٹیشن سے محض 500 میٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔زخمیوں میں جنگی پور میونسپلٹی کا 30 سالہ ملازم عبداللہ شیخ بھی شامل ہے جس کے سر پر لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیاگیا۔ جنگی پور ہسپتال میں زیر علاج عبداللہ نے صحافیوں کو بتایاکہ میں موٹر سائیکل پر گھر واپس آ رہا تھا اور رام نومی کے جلوس سے گزررہاتھا۔ہندو انتہاپسندوں نے مجھے پکڑ لیا، مجھے شدید مارا پیٹا، میری موٹر سائیکل توڑ دی اور اسے آگ لگا دی۔جنگی پور کے رکن اسمبلی اور ترنمول کانگریس کے امیدوار ذاکر حسین نے کہا کہ یہ تشدد آئندہ انتخابات سے پہلے جان بوجھ کر بھڑکایاگیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے انتخابات سے پہلے جان بوجھ کر یہ کارروائی کی۔ پارٹی کو جنگی پور میں اندرونی دھڑے بندی کا سامنا ہے اور وہ فرقہ وارانہ بدامنی پھیلا کر ہندو ووٹوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس واقعے سے ریاست میں خاص طور پر اپریل کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں مسلمانوں پر ٹارگٹڈ حملوں کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہوئی ہے۔







