دہلی کی عدالت نے نام نہاد منی لانڈرنگ کیس میں شبیر شاہ کی ضمانت منظور کرلی

نئی دہلی: نئی دہلی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کے ایک جھوٹے کیس میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کی ضمانت منظورکرلی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق خصوصی عدالت کے جج پرشانت شرما نے ضمانت منظورکی ہے ، تاہم عدالت کا تفصیلی فیصلہ ابھی جاری ہونا باقی ہے۔ اس سے قبل 12 مارچ کو بھارتی سپریم کورٹ نے بھی شبیر شاہ کو نام نہاد دہشت گردی فنڈنگ کے ایک جعلی کیس میں ضمانت دی تھی۔ انہیں این آئی اے نے 4 جون 2019 کو گرفتار کیا تھا۔ اس کیس میں گزشتہ سال 4 ستمبر کو بھارتی سپریم کورٹ نے عبوری ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے این آئی اے سے جواب طلب کیا تھا۔اس سے قبل دہلی ہائیکورٹ نے 12 جون 2025 کو شبیر شاہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ملزم کے دوبارہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور گواہوں پر اثر انداز ہونے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔این آئی اے نے یہ کیس 2017 میں شبیر احمد شاہ سمیت 12 افراد کے خلاف درج کیا تھا جس میں الزام لگایاگیاتھا کہ انہوں نے پتھراو¿، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اوربھارتی حکومت کے خلاف سازش کے لیے فنڈز اکٹھے کیے اورتحریک آزادی کشمیر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔





