ترقی اورخوشحالی کے دعوﺅں کے باوجود مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہزاروں اسکول بنیادی سہولیات سے محروم

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کٹھ پتلی حکومت نے اعتراف کیاہے کہ علاقے میں ہزاروں اسکولوں کو بیت الخلا، پینے کے پانی، باونڈری وال اور کھیل کے میدان سمیت بنیادی ڈھانچے کی کمی کا سامنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کٹھ پتلی حکومت نے قانون سازاسمبلی میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 18,724 اسکولوں میں سے 2,698 میں لڑکوں کے بیت الخلاءنہیں ہیں، جبکہ 57 اسکولوں میں لڑکیوں کے بیت الخلاءنہیں ہیں۔ 78 اسکول پینے کے پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 9,078 اسکولوں میں چاردیواری نہیں اور 10,896 اسکول کھیل کے میدان سے محروم ہیں۔اعداد و شمار نے دیگر ضروری بنیادی ڈھانچے میں اہم کوتاہیوں کو بھی اجاگر کیا جس سے حفاظت اور سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں اور طلباءکے لیے جسمانی اور تفریحی سرگرمیوں پر اثر پڑتا ہے۔تاہم کٹھ پتلی حکومت نے کہا کہ ان خلا کو پر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ 5ٓاگست 2019کے بعد ترقی اورخوشحالی کے بلند وبانگ دعوﺅں کے باوجود مودی کی ہندوتواحکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں بنیادی ضرورت کی سہولیات بھی فراہم نہیں کرسکی ہے اوروہ دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے علاقے کے بارے میں ہرروز کوئی نیا جھوٹ بول رہی ہے۔






