سونم وانگچک کا بھارت کے ساتھ اعتمادسازی اور بامعنی بات چیت پر زور

لہہ:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لداخ خطے سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے نظر بندی سے رہائی کے بعد بھارتی حکومت کے ساتھ اعتمادسازی اور بامعنی بات چیت شروع کرنے پر زور دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سونم وانگچک نے جنہیں حال ہی میں نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت نظربندی کے بعد رہا کیا گیا تھا، ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ انہیں رہا کر دیا گیا ہے، تاہم فون سمیت ان کا ذاتی سامان سرکاری تحویل میں ہے۔ انہوں نے گزشتہ کئی مہینوں کوناانصافی اور آزمائش قراردیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ غصے اور تلخی سے اس کاز کو مدد نہیںملے گی جس کے لئے وہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کو اعتمادسازی اور تعمیری بات چیت کے لئے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔وانگچک نے کہا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد لداخ کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے جن میں خطے کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنا اور جمہوری حقوق کی بحالی شامل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ مذاکرات مثبت نتائج کی طرف لے جائیں گے۔انہوں نے اس مرحلے پر بات چیت میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مسلسل عوامی حمایت پر زور دیا۔







