صحافی رئیس بٹ کو ان کی برسی پر خراج عقیدت
مقبوضہ جموں وکشمیرصحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں سے ایک ہے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے صحافی رئیس احمد بٹ کو ان کی چوتھی برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کیاہے جنہیں بھارتی فوجیوں نے 2022 میں آج ہی کے دن سرینگر کے علاقے رعناواری میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران ایک اور نوجوان کے ہمراہ شہید کیا تھا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وادی کشمیر کی صحافی برادری نے رئیس احمد بٹ اور مقبوضہ کشمیر کے دیگر شہید صحافیوں کو شاندارخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیری صحافی انتہائی مشکل حالات میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
دریں اثناءکشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں سے ایک ہے جہاں پریس سے وابستہ افراد انتہائی مشکل حالات میں کام کرنے پر مجبورہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1989 سے جاری کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے دوران 20 صحافی اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے شہید ہوئے ہیںجن میں شبیر احمد ڈار، مشتاق علی، محمد شعبان وکیل، خاتون مصنفہ آسیہ جیلانی، غلام محمد لون، غلام رسول آزاد، پرویز محمد سلطان، شجاعت بخاری، علی محمد مہاجن،سید غلام نبی، الطاف احمد فکتو، سیدن شفیع، طارق احمد، عبدالمجید بٹ اور جاوید احمد میرشامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کو بھارتی فوجیوں کی طرف سے مسلسل بدسلوکی، تشدد، اغوا، اقدام قتل اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے جس سے ان کا روزمرہ کا کام انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ کشمیری صحافیوں اور میڈیاسے وابستہ دیگر افراد کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران اکثر تنگ کیا جاتا ہے، انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں، ان پر حملے کئے جاتے ہیں، فوجی کیمپوں اورتھانوں پر طلب کیا جاتا ہے اور من گھڑت الزامات لگاکر گرفتارکیا جاتا ہے۔عرفان معراج اور سجاد گل سمیت کئی صحافیوں کو کالے قوانین کے تحت غیر قانونی نظربندی کا سامنا ہے اور وہ بھارت اورکشمیر کی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے مختلف دھمکی آمیز ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے اور 5 اگست 2019 سے جب بی جے پی کی ہندوتوا حکومت نے علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صحافیوں پرمظالم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔رپوٹ میں کہاگیا کہ بی جے پی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں میڈیا کو دبانے کے لیے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ کشمیری صحافیوں کو صرف اپنا فرض نبھانے پر اغوا کیا جاتا ہے، دھمکیاں دی جاتی ہیں اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیرکے زمینی حقائق کو دنیا سے چھپانے کے لیے کشمیری صحافیوں کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔






