الہ آباد ہائی کورٹ نے بغیر نوٹس کے مسجد کو سیل کرنے پر یوپی حکومت سے وضاحت طلب کرلی
لکھنو: بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست اترپردیش میں الہ آباد ہائی کورٹ نے پیشگی نوٹس جاری کیے بغیر یا سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر مسجدکو سیل کرنے پر ہندوتوا وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت سے وضاحت طلب کرلی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جسٹس اتل سریدھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ وضاحت احسن علی کی جانب سے ضلع مظفر نگر میں زیر تعمیر مسجد کو سیل کرنے کے خلاف دائردرخواست کی سماعت کے دوران مانگی۔عدالت نے اپنے حکم میں دو اہم سوالات اٹھائے: کیا کوئی قانون حکام کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بغیر پیشگی اطلاع یا سماعت کے عبادت گاہ کو سیل کر دیں، اور کیا زمین کے مالکان کو تعمیرات کرنے کے لیے پیشگی حکومتی اجازت درکار ہے۔درخواست کے مطابق احسن علی زمین کے قانونی مالک ہیں، انہوں نے 2019 میں پراوین کمار جین سے قانونی طریقے سے پلاٹ خریدا۔ مسجدکی تعمیر کے بعد اس کو سیل کر دیا گیا ہے جس میں چاردیواری بھی شامل ہے ۔حکام نے الزام لگایاہے کہ یہ کام پیشگی اجازت کے بغیر غیر قانونی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مسجد کو سیل کرنے سے پہلے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا اور نہ ہی سماعت کا موقع دیا گیا جس سے انصاف کے اصولوں اور مالک کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ہائی کورٹ نے یوپی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک حلف نامہ داخل کرے جس میں یہ وضاحت درج ہو کہ مسجد کو سیل کرنے کے لئے کن قانونی دفعات کا استعمال کیاگیا اورکیا اس سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے۔






