مقبوضہ جموں وکشمیر : ”سی اے جی‘ رپورٹ میں اہم ا نکشافات، گھریلو پیداوار کی شرح نمو میں کمی

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کمپٹر ولر اینڈ آڈیٹر جنرل(سی اے جی) کی رپورٹ میں علاقے کی مالی صورتحال پر ایک جامع روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ مالی سال2024-25کے دوران مجموعی گھریلو پیداور کی شرخ نمو 11.18فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ برس کی 12.51فیصد کی رفتار کے مقابلے میں کم ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یہ رپورٹ مقبوضہ علاقے کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے قانونی ساز اسمبلی میں پیش کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی بے ضابطگیوں ، بے جااخراجات اور قرضوں کے بڑھتے بوجھ نے علاقے کی مالی حیثیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اگر چہ فی کس آمدنی میں قابل ذکر بہتری آئی ے اور یہ 2020-21کے 1,01,645روپے سے بڑھ کو 2024-25میں 1,54,826روپے ہو گئی ہے مگر یہ اضافہ ابھی تک قومی اوسط سے نیچے ہے ، گزشتہ تین برسوں میں فی کس آمدنی بتدریج بڑ ھتی رہی ہے تاہم اقتصادی ماہرین کا کہا ہے کہ علاقے کی مالیاتی بنیادوں کو مستحکم بنانے کیلئے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اخراجات کا ایک بڑا حصہ یعنی 85فیصد سے زائد ریونیو اخراجات پر خرچ ہوتا ہے جبکہ کمٹڈ اخراجات اور سبسڈیز اس میں غالب ہیں جن کی وجہ سے ترقیاتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کیلئے مالی گنجائش محدود ہو جاتی ہے ۔ سی اے جے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 82ہزار کروڑ سے زائد کے اخراجات کے باوجود انفراسٹرکچر میں مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں ہوسکی ہے اور بجٹ میں طے شدہ اہداف پورے نہیں کیے گئے جو مالیاتی کمزور ی کی نشاندہی کرتا ہے ۔
رپورٹ کا ایک اہم پہلو مقبوضہ علاقے کے بڑھتے ہوئے قرضے ہیں جو 2020-21میں جی ایس ڈی پی کے8.87تھے لیکن 2024-25تک یہ 17.21فیصد تک پہنچ گئے۔






