بھارت

آبنائے ہرمز کی بندش:بھارتی قالین صنعت بھی شدید بحران سے دوچار

نئی دلی:مشرق وسطی میں جاری جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش نے بھارت میں قالین صنعت سے وابستہ لاکھوں محنت کشوں کیلئے بھی روزی روٹی کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کارپٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل(سی ای پی سی) کے نائب صدر اسلم محبوب نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر بری طرح پڑ رہے ہیں ، آبنائے ہرمز کے راستے کی بندش کی وجہ سے نقل و حمل کی لاگت کئی گناہ بڑھ گئی ہے جس کا قالین کی پیداواری لاگت پر انتہائی برا اثر پڑ رہا ہے ۔ راستے بند ہونے سے نیوزی لینڈ جیسے ممالک سے قالین کی تیاری میں استعمال ہونے والی اون کی دستیابی یقینی نہیں ہو پارہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ امریکہ بھارتی قالینوں کا سب سے بڑا درآمد کندہ ہے جہاں بھارتی قالینوں کی کل پیداوار کا 50سے60فیصد جاتا ہے ۔
اسلم محبوب نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے امریکہ میں بھی شدید کساد بازاری کی اطلاعات مل رہی ہیں اور وہاں کے لوگ بھی لکژری قالینوں کی خریداری سے گریزاں ہیں جسکا براہ راست اثر قالین کی برآمدات پر پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 30سے 40فیصد قالین یا تو راستے میں ڈمپ ہو گیا ہے یا بندرگاہوںکے گوداموں میں پڑا ہے۔ اسی طرح سے سوئٹرز لینڈ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اورخلیجی ملکوں کو بھی برآمد ات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button