بھارتی حکومت دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیریوں کی شناخت مٹا ناچاہتی ہے: رپورٹ

اسلام آباد:بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کا بنیادی مقصد دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیرکی معیشت کو کمزور کرنا، وسائل پر قبضہ کرنا اور علاقے میں غیر کشمیریوں کو آباد کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ کشمیریوںکی منفرد شناخت کو مٹایا جاسکے۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت مسلم اکثریتی علاقے میں غیر کشمیریوں کو زمینیں بیچ کر، معیشت اور وسائل پر مقامی لوگوں کاکنٹرول چھین کر اور اہم عہدوں پر غیر مقامی لوگوں کو تعینات کر کے منظم انداز میں آبادی کا تناسب تبدیل کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں پہلے ہی 10 لاکھ سے زائدبھارتی فوجی تعینات ہیں۔بی جے پی حکومت نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں جبکہ سیکڑوں نے گزشتہ چھ سالوں میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں زمینیں خریدی ہیں۔ رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بھارتی شہریوں اور سرمایہ کاروں کو زمینیں مختص کرنے کا مقصد سرمایہ کاری کی آڑ میں بیرونی لوگوں کو آباد کرنا ہے۔ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مقصد خطے میںآبادی کا تناسب، شناخت اور ثقافت کو تبدیل کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکے لوگوں کو اپنی ہی سر زمین پر ملازمتوں اور دیگر مواقع سے محروم کیا جا رہا ہے۔بھارت کی بی جے پی حکومت نے منظم طریقے سے مقبوضہ علاقے کو ایک فوجی چھاو¿نی میں تبدیل کر دیا ہے اور جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں اراضی پر قبضہ کر لیا ہے۔رپورٹ میں کہاگیا کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر کشمیری عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دیرینہ تنازعہ کشمیر کو حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔رپورٹ میں کہاگیا کہ حریت رہنماو¿ں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو طویل عرصے سے من گھڑت الزامات پر جیلوں، پولیس اسٹیشنوں اور عقوبت خانوں میں نظر بند رکھا گیا ہے جس کا مقصد علاقے میں سیاسی آوازوں کو دبانا ہے۔






