مضامین

مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی حکومت کے مظالم: 5 اگست 2019 سے لیکر آج تک کا سفر

محمد شہباز

فسطائیت کے دلدادہ اور انسانیت کے دشمن مودی نے پانچ اگست 2019میں اس کروفر کیساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی کہ خصوصی حیثیت سے متعلق دو آرٹیکل 370اور35اے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تعمیر و ترقی میں بنیادی رکاوٹ ہیں لہذا ان آئینی دفعات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ مخصوص آئینی دفعات نہیں بلکہ بھارت کا معاندانہ رویہ ،ہٹ دھرمی ،ضد اور اہل کشمیر کو مسلسل اپنا غلام بنائے رکھنے کا گھسا پٹانظریہ تعمیر و ترقی میں رکاوٹ ہے۔جس پر بھارتی حکمران گزشتہ79 برسوں سے مسلسل عمل پیرا ہیں۔یہ اقدام نہ صرف بھارتی آئین کے قوانین کی خلاف ورزی تھی بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی منافی تھا۔ اس یکطرفہ اقدام نے کشمیری عوام کی بنیادی آزادیوں، سیاسی حقوق اور زمین و جائیداد کے حقوق کو شدید دھچکہ پہنچایا۔

5 اگست 2019 سے قبل جموں و کشمیر بھارتی آئین میں ایک مکمل خود مختار ریاست کی حیثیت سے موجود تھی۔ دفعہ 370 اور 35A کے تحت اس ریاست کا اپنا الگ آئین، پرچم اور زمین و جائیداد کے حقوق حاصل تھے۔ بھارتی حکومت نے ان دفعات کو ختم کر کے ریاست کو دو وفاقی علاقے یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا، جس کے بعد کشمیری عوام کو سیاسی، سماجی اور اقتصادی حقوق سے محروم کیا گیا۔اس اقدام کے بعد بھارت نے علاقے کے مواصلات اور رابطوں کے ذرائع معطل کر دیے۔ موبائل نیٹ ورک، انٹرنیٹ اور میڈیا پر سخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں، تاکہ دنیا کشمیری عوام کے ناگفتہ بہہ حالات سے لاعلم رہے۔

خبررساں ادارہ کشمیر میڈیا سروس KMS نے ایک رپورٹ مرتب کرکے مشتہر کی ہے ،جس میں 5 اگست 2019 کے بعد سے قابض بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی کی بھرپور تصویر کشی کی گئی،وہیں مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس پورے عرصے میں 1,059 کشمیری بھارتی دہشت گردی کی بھینٹ بھی چڑھ گئے ۔کشمیرمیڈیا سروس اپنی رپورٹ میں رقم طراز ہے کہ ان 1,059 شہید کشمیریوں میں 22 خواتین بھی شامل ہیں۔

بھارتی فوجیوں کے مظالم میں 2,690 کشمیری شدید زخمی بھی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ان شہادتوں کے نتیجے میں 83 خواتین بیوہ اور 232 بچے یتیم ہو گئے۔جبکہ سینکڑوں مسلمان کشمیری سرکاری ملازمین جھوٹے الزامات کے تحت برطرف یا معطل کر دیے گئے،ان پر بھارت کے خلاف اہل کشمیر کی جدوجہد آزادی میں کردار ادا کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس کے علاوہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے کشمیری عوام کی سینکڑوں جائیدادیں، بشمول گھروں، زمینوں، دفاتر اور اسکولوں پر قبضہ کر لیا۔سینکڑوں گھروں کو دھماکوں سے تبا ہ بھی کیا گیا۔زمین اور جائیدادواملاک پر قبضے نے مقامی افراد کی معاشی آزادی ختم کر دی ہے، اور وہ اپنی زمینوں اور گھروں سے بے دخل ہو کر حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔

مودی اور اس کے حواریوں نے مقبوضہ خطے کو فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا،بھارت مخالف آوازیں طاقت کے بل پر دبائی جاررہی ہیں اور مظلوم عوام کے حقوق اور قدرتی وسائل کو بھی چھین لیا گیا۔کشمیری نوجوانوں کو ان کے گھروں سے اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے،جس کے بعد انہیں "مجاہدین” یا "اوور گروانڈ کارکن” کے طور پر پیش کرکے قتل کر دیاجاتا ہے۔جس کی حالیہ مثال آرہامہ گاندربل میں شہید کیے گئے رشید احمد مغل کی ہے،جس سے 31مارچ کو اٹھا کر پوری رات ایک جھڑپ کا ڈرامہ رچایا گیا اور پھر یکم اپریل کو اس کی میت یہ کہہ کر اپنے آبائی علاقے سے درجنوں کلو میٹر دور بارہمولہ میں بھارتی فوجیوں کے زیر استعمال قبرستان میں دفنائی گئی کہ وہ مجاہد تھا اور بھارتی فوجیوں کیساتھ جھڑپ میں مارا گیا،گوکہ اس جعلی جھڑپ کا بھانڈا دوسرے ہی دن پھوٹ گیا ،مگر بھارتی درندگی ہنوز جاری ہے۔

بھارت نے پورے مقبوضہ خطے کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کیا ہے، اور 3,000 سے زائد حریت رہنما، سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکن، مذہبی رہنما، صحافی اور کاروباری شخصیات 5 اگست 2019 کے بعد سفاکانہ قوانین کے تحت گرفتار کیے گئے۔ ان میں سے سینکڑوں افراد دہلی کی تہاڑ ، دوسری بھارتی جیلوں اور مقبوضہ کشمیر میں قید ہیں۔جن میں چالیس خواتین بھی شامل ہیں۔یہ گرفتاریاں اور حراستیں کشمیری عوام کی سیاسی آزادی پر سنگین حملہ ہیں۔ گرفتار شدگان اکثر طویل عرصے تک بغیر مقدمہ چلائے قید میں رہتے ہیں، اور ان پر تشدد کے سنگین الزامات بھی سامنے آ چکے ہیں۔یہ وقت ہے کہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بھارت کے داخلی اور خارجی سیاسی و انصاف پرور حلقے کشمیری عوام کی بنیادی آزادیوں اور حقوق کی حفاظت کیلئے فعال اقدامات کریں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں امن و انصاف کا حصول ، انسانی حقوق کی پامالیوں کا خاتمہ اور مظلوم عوام کے حقوق کی بحالی اور انہیں حق خود ارادیت دلانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔جس سے کسی صورت پہلو تہی نہیں برتی جاسکتی۔ اہل کشمیر کا گلا گھونٹنے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہ پہلے امن کی جھوٹی نہریں بہہ چکی ہیں،اور نہ ہی آج امن کا کو ئی نام و نشان باقی ہے۔اہل کشمیر کی جدوجہد آج بھی پوری دنیا کیلئے ایک پیغام ہے کہ ظلم کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا اور آزادی کے حصول کیلئے لڑنا کبھی رکاوٹ نہیں بنتا۔مستقبل کی نسلوں کیلئے ضروری ہے کہ عالمی برادری بھارتی مظالم کو نہ صرف بے نقاب بلکہ اس کے خاتمے کا سد باب اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انصاف کے قیام کو یقینی بنائے۔ کشمیری عوام کی عظیم اور لازوال قربانیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ حق و انصاف کی جدوجہد جاری ہے ، اوربھارتی ظلم و بربریت کے سامنے صبر اور مزاحمت ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔جس سے اہل کشمیر کسی صورت دستبردار نہیں ہوتے،کیونکہ مزاحمت ہی زندگی ہے اور سانسوں کو بحال رکھنا مزاحمت کو میرا ث میں تبدیل کرکے ایک کے بعد ایک نسل میں منتقل کرنا ہے۔تاکہ ایک تو ظالم فنا کے گھاٹ اتر سکیں اور دوسرا مظلوم بھی تاریخ میں سینہ ٹھونک کر یہ کہہ سکیں کہ ہم ظالم کے مقابل کھڑا رہے۔تاکہ تاریخ دان یہ لکھ سکیں کہ مظلوم کو ظلم و جبر سے دبایا جانا ممکن نہیں ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button