چین نے اروناچل پردیش کا نام تبدیل کرکے نیانام ”زنگنان“رکھ دیا

بیجنگ : چین نے ایک بار پھر اروناچل پردیش کو اپنا اٹوٹ حصہ قراردیتے ہوئے سرکاری طورپر اس کا نیانام ”زنگنان“ یا جنوبی تبت رکھ دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق چینی وزارت شہری امور نے اروناچل پردیش میں مختلف جغرافیائی خصوصیات کی بنیاد پر میندرن، تبتی اور پنین زبانوںمیں 27 نئے ناموں کی فہرست جاری کی ہے جس میں 15 پہاڑ، پانچ رہائشی علاقے، چار پہاڑی درے، دو دریا اور ایک جھیل شامل ہیں۔ اس سے قبل2017، 2021 اور 2023 میں جاری کی گئی فہرستوں کے بعد چین کی طرف سے یہ پانچویں فہرست ہے۔ تازہ ترین فہرست کے بعد جن مقامات کے نام تبدیل کئے گئے ان کی کل تعداد 80 سے تجاوز کر گئی ہے جس سے تجزیہ کار بیجنگ کی طرف سے خطے پر اپنے دعوے کو تقویت دینے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قراردیتے ہیں۔چین مسلسل کہتا رہا ہے کہ اروناچل پردیش جنوبی تبت کا حصہ ہے اور مقامات کے نام تبدیل کرنے جیسے علامتی اقدامات کے ذریعے اس نے بارہا اس موقف کو دہرایا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بھارت کے لیے ایک اہم جغرافیائی اور سیاسی چیلنج ہے لیکن بھارت کسی خاطر خواہ جوابی اقدام کے بجائے محض سفارتی بیانات تک محدود رہتاہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت چین جیسی بڑی طاقت کا مقابلہ کرنے میں محتاط دکھائی دیتا ہے لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی مشینری کاجارحانہ استعمال کررہا ہے اورتحریک آزادی کشمیرکو دبانے کے لیے فوجی طاقت، جبری نظربندیاں اور اختلاف رائے کو دبانے سمیت ظالمانہ اقدامات کر رہا ہے جس سے اسکا متضاد رویہ ظاہر ہوتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دہراطرز عمل اس کی پالیسی میں تضادات کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت بیرونی دباو¿ پر خاموشی یا علامتی احتجاج کیا جاتا ہے جبکہ اندرونی سیاسی مسائل سے نمٹنے کے لئے خاص طور پر مقبوضہ جموں وکشمیرمیں طاقت اور کالے قوانین کا استعمال کیاجاتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حکمت عملی نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بھارت کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ متنازعہ خطوں میں جمہوری اصولوں اور حق خود ارادیت کے ساتھ اس کی وابستگی پر بھی سنگین سوالات کھڑی کرتی ہے۔





