اسلام آباد:
پاکستان نے سمجھوتہ ایکسپریس حملے میں ملوث بھارتی افسر کرنل پروہت کی ترقی کی اطلاعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام انصاف کے تقاضوں کے برعکس اور افسوس ناک ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ترجمان دفترخارجہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس حملے کے متاثرین دو دہائیوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔پاکستان نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ بھارت میں احتساب کے نظام پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور بین الاقوامی برادری اس معاملے کا نوٹس لے۔طاہر حسین اندرابی نے کہاکہ بھارت کی نام نہاد حلقہ بندی سے متعلق رپورٹس کا نوٹس لیا ہے۔ حلقہ بندی کے نام نہاد عمل کومکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حلقہ بندی کا عمل مکمل طورپر غیر قانونی اور بے بنیاد ہے۔ یہ عمل ایک متنازع خطے میں کیا جا رہا ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، حلقہ بندی کا مقصد خطے کی آبادی اور سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو سیاسی طور پر مزید محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں حلقوں کی نئی حد بندی کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں، جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ قراردادوں کے مطابق ہونا ہے، بھارت کا آزاد جموں و کشمیر پر دعوی بے بنیاد اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔ترجمان نے کہاکہ بھارتی قانون سازی اور آئینی اقدامات زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے، یہ اقدامات اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کسی قانون سازی سے تبدیل نہیں ہو سکتی، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو دبایا نہیں جا سکتا، پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔







