پاکستان

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، سابق سفیر منظور الحق

پشاور:
سابق سفیر منظور الحق نے کہا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طورپر معطل کر کے عالمی معاہدوں اور ورلڈ بینک کی ضمانت کی خلاف ورزی کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سابق سفیر منظور الحق نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں نے بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کو خطرے میں ڈال دیا ہے، فاشسٹ مودی حکومت کو اس پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اپریل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے اور دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان خاص طور پر پانی کے معاملے پر ایک اور جنگ کے اثرات سرحدوں سے باہر تک پہنچیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سرحد پار پانیوں پر یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کشدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ 1960کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریائوں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر اور بھارت راوی، بیاس اور ستلج کے مشرقی دریائوں کو کنٹرول دیاگیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے علاقائی استحکام پر نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا حالیہ غیر قانونی اقدام واضح طور پر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مثال ہے جس کی طرف پاکستان مسلسل عالمی برادری کی توجہ مبذول کروا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی غیر قانونی اقدامات نے انڈس واٹر کمشنر کو اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھنے پر مجبور کیا جس میں سندھ طاس معاہدے کے تحت فراہم کردہ اہم معاملے پر وضاحت طلب کی گئی۔ پاکستان کو توقع تھی کہ بھارت پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا واضح جواب دے گا، دریائوں کے بہا میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی سے باز رہے گا اور سندھ طاس معاہدے کی دفعات کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button