مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر : مقامی اسٹیک ہولڈرز کا غیر منصفانہ اراضی الاٹمنٹ پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں صنعتی اراضی کی الاٹمنٹ پالیسی کی شفافیت اور منصفانہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے مقامی اسٹیک ہولڈرز نے اسے متعصب اور انتہائی ناقص قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف انڈسٹریز اینڈ کامرس نے رواں ماہ کی 9تاریخ کو ایک عارضی میرٹ لسٹ جاری کی تھی، جس پر 19اپریل تک اعتراضات پیش کرنے کیلئے کہاگیاہے ۔ تاہم مقامی اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ پالیسی میں اسکورنگ میکانزم، خصوصا سرمایہ کاری اور فی کنال روزگار کے لیے 80فیصد ویٹیج غیر حقیقی دعوئوں کو فروغ دے رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق متعدد درخواست دہندگان کی جانب سے ملازمتوں کے اعداد و شمار میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے جہاں بعض کیسز میں زمین کے چھوٹے رقبے پر فی کنال 100سے زائد نوکریوں کے دعوے سامنے آئے ہیں، جس سے اس عمل کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام عملی اور پائیدار کاروباری منصوبوں کے بجائے مبالغہ آمیز دعووئوں کو فائدہ دے رہا ہے، جس سے حقیقی کاروباری طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق مختلف شعبوں میں یکساں معیار کا اطلاق بھی عدم توازن کاباعث بن رہا ہے، جس سے چھوٹے منصوبوں کو غیر متناسب طور پر فائدہ اور بڑے سرمایہ کاری منصوبے نظرانداز ہو رہے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تصدیق کے مضبوط نظام اور الاٹمنٹ کے بعد نگرانی کے فقدان سے گورننس کے مسائل سامنے آ رہے ہیں، اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے آزاد تکنیکی جانچ پڑتال اور مرحلہ وار تصدیق ناگزیر ہے۔ماہرین کے مطابق اگر اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ پالیسیاں مقامی کاروباری افراد کو مزید پسماندہ اور خطے میں معاشی عدم مساوات کو بڑھا سکتی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button