حکومت خواتین ریزرویشن بل میں ذات پات کی مردم شماری کو نظر انداز کر رہی ہے، راہول گاندھی

نئی دلی: بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے بی جے پی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین ریزرویشن بل کو منظور کرانے کیلئے 2011کی مردم شماری کا سہارا لیا جا رہا ہے نہ کہ موجودہ ذات پات پر مبنی مردم شماری کا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس “ پر اپنے بیان میں کہا کہ حکومت جو تجویزپیش کر رہی ہے اسکا خواتین کے ریزرویشن سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ حلقہ بندی اور انتخابی حلقہ بندی میں ردوبدل کے ذریعے طاقت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی خواتین کے زیزرویشن کی مکمل حمایت کرتی ہے اور 2023میں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر اس بل کو منظور کیا تھا ۔ یہ مسئلہ خاص طور پرپسماندہ طبقات ، دلتوں ، قبائلی برادریوں اور خواتین کیلئے اہم ہے کیونکہ یہ ان کی شمولیت سے متعلق ہے ۔
انہوںنے کہا کہ عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور نریندر مودی نہیں چاہتے کہ خواتین ریزرویشن کا فیصلہ نئی مردم شماری یا او بی سی مردم شماری کی بنیاد پر ہو۔انہوںنے کہا کہ اس عمل سے پسماندہ طبقات کی نمائندگی چھینی جا رہی ہے اور بی جے پی نہیں چاہتی کہ ان طبقات کو انکی حقیقی آبادی کے مطابق حصہ ملے ۔
راہول گاندھی نے ذات پات کی مردم شماری کو نظر انداز کرنے کو ملک مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کا طرز عمل نہ صرف پسماندہ طبقات کے خلاف ہے بلکہ قومی مفاد کے بھی منافی ہے ۔ انہوں نے حد بندی بل کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ نافذ ہوا تو جنوبی اور شمالی مشرقی ریاستوں کی نمائندگی کم ہو سکتی ہے ۔





