بھارت : حزب اختلاف کا پارلیمنٹ کے باہر احتجاج ،روزگاراسکیم کا نام تبدیل کرنے پر بی جے پی پر تنقید
نئی دہلی:بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے منگل کو پارلیمنٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور پلے کارڈز اٹھاتے ہوئے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (MGNREGA)کا نام تبدیل کرنے پر بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ احتجاج” وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈاجیویکا مشن بل 2025 متعارف کرانے کے خلاف کیاگیاجس کے تحت تقریبا دو دہائیوں کی گارنٹی اسکیم کو تبدیل کیاگیاہے۔ بھارتی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے منگل کو لوک سبھا میں بل پیش کیا جس پر شدید مخالفت اور وسیع پیمانے پر تنقید ہوئی۔اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے فلیگ شپ روزگار پروگرام کا نام تبدیل کرنے پر اعتراض کیا اور پارلیمنٹ کے احاطے میں گاندھی کے مجسمہ تک مارچ کیا جہاں انہوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت دیہی روزگار اسکیم سے مہاتما گاندھی کا نام ہٹا رہی ہے۔کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے احتجاج کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ سچ یہ ہے کہ اسکیم کا نام تبدیل کرنے کے بہانے وہ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس اسکیم کا نام کیوں بدلنا چاہتے ہیں؟ مہاتما گاندھی بابائے قوم ہیں۔سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے نام تبدیل کرنے کے پیچھے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اس تبدیلی سے کسانوں کو کیا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نام تبدیل کرنے کی سیاست پہلے اتر پردیش میں شروع ہوئی اور اب یہ دہلی میں بھی پہنچ گئی ہے۔کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اور سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے بھی مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس اقدام کو گاندھی کی توہین اور سماجی تحفظ کے ایک اہم پروگرام کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔حزب اختلاف نے کہا کہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (MGNREGA)کو تبدیل کرنا اور گاندھی کا نام ہٹانا بی جے پی کی طرف سے روزگار کی ضمانت کے ایک اہم پروگرام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔







