بھارت :مسلمانوں کی حمایت کرنے پر ہندو خواتین کو عصمت دری کی دھمکیاں
نئی دہلی: بھار ت کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں سے متعلق مسائل پر بات کرنے کے بعدتین خواتین کو آن لائن عصمت دری اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا جس سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور اختلافی آوازوں کو دبانے کی عکاسی ہوتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دھمکیوں کا سامنا کرنے والی خواتین میںگریٹر نوئیڈا سے تعلق رکھنے والی سومیا، کاروباری خاتون نمیتا تھاپر اور کوئمبٹور کی پروفیسر سماتھی شامل ہیں۔ سومیا نے 16 اپریل کو گور سٹی 2 میں ایک مسلمان جوڑے کو ہراساں کرنے اورمسلم خاتون کے حجاب پر اعتراض کرنے پرسوال اٹھایا تھا۔اس واقعے کو ریکارڈ کرنے اور مسلم جوڑے کو جانے میں مدد کرنے کے بعدپولیس نے ملزم مکیش کمار کو گرفتار کر لیا۔ سومیا نے بعد میں بتایا کہ اسے آن لائن عصمت دری اور اجتماعی عصمت دری کی دھمکیاں موصول ہوئیں ،اسے مذہب دشمن قراردیاگیااور ان کے اہلخانہ کو نشانہ بنایاگیا۔نمیتا تھاپر کو بھی نماز کے صحت سے متعلق فوائد کے بارے میں ایک ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد اسی طرح کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پوسٹ صحت کے نقطہ نظر سے تھا ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے یوگا اور سوریہ نمسکار کے بارے میں بھی بات کی ہے اور جب میں نے کسی دوسرے مذہب کے بارے میں بات کی تو یہ مسئلہ کیوںبنایاگیا۔کونگناڈو آرٹس اینڈ سائنس کالج کی پروفیسر سماتھی نے ایک کھلا خط لکھا جس میں ندا خان کو ناسک ٹی سی ایس اسکینڈل کے باعث تکلیف پہنچنے پر معافی مانگی گئی۔انہیں بھی شدید ردعمل اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا جس کا حوالہ صحافی رانا ایوب نے اپنی ایک رپورٹ میں دیاہے۔ یہ واقعات بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اورآن لائن دھمکیوں کے بڑھتے ہوئے رحجان کی عکاسی کرتے ہیں۔






