بھارت کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں نے پہلگام ڈرامے کا بھانڈا پھوڑ دیا
نئی دہلی : بھارت میں اب عام شہری، سیاستدان اور صحافی پہلگام واقعے کے حوالے سے حکومت کے جھوٹے بیانیے کو چیلنج کر رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پہلگام اور پلوامہ کے نام پر کھیلا جانے والا کھیل اب چھپ نہیں رہا۔ لوگ سوال کررہے ہیں کہ ہر بار ایک ہی طرح کی کاروائیاں کیسے ہوتی ہیں؟پہلے حملہ ہوتا ہے، ملک کو صدمے میں ڈالا جاتا ہے،جذبات بھڑکائے جاتے ہیں اورپاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے۔اس کے بعداصل سوالات کو خاموشی سے دفن کر دیا جاتا ہے۔پلوامہ میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد ملک کے اندر کیسے پہنچا؟پہلگام کے دہشت گرد کہاں ہیں؟وہ آئے کہاں سے اور غائب کہاں ہو گئے؟انٹیلی جنس کیوں ناکام ہوئی؟ملزمان کو شناخت اور گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ صرف سوالات نہیں، یہ بھارتی ریاستی بیانیے پر فردِ جرم ہے۔
بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی،کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، عمر عبداللہ، اسد الدین اویسی اور دیگر رہنما مودی حکومت کی نااہلی، سیکیورٹی کی ناکامی اورنارملسی کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کر رہے ہیں۔برکھا دت، اجے ساہنی، پراوین ساہنی، رویش کمار اور دھرو راٹھی جیسے آوازیں واضح کہہ رہی ہیں کہ یہ صرف سیکیورٹی ناکامی نہیں، یہ پالیسی بحران اور سچ چھپانے کی کوشش ہے۔پہلگام جیسے حساس علاقے میں اس طرح کا حملہ محض لاپرواہی نہیں لگتی۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو ہر بار قتل وغارت کے بعد تیار کیا جاتا ہے۔لیکن یہ کھیل اب پرانا ہو چکا ہے،لوگ سوال پوچھ رہے ہیںاور اس بار سوال دب نہیں رہے۔لوگوں کا واضح پیغام ہے کہ اب سچ کو دفن نہیں ہونے دیا جائے گا۔







