مودی کی جارحانہ پالیسیوں سے جنوبی ایشیا کے امن کو خطرہ لاحق ہے
بھارت علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ قراردیاجارہاہے
اسلام آباد:
سیاسی و بین الاقوامی امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جارحانہ اور غیر جمہوری پالیسیوں سے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے اور بھارت کو 1947سے خطے میں بدامنی اور کشیدگی کا بنیادی سبب قرار دیا جا رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور ہندوتوا پالیسیاں علاقائی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ بھارتکئی دہائیوں سے تنازعہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو دبانے کیلئے ریاستی دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ 22اپریل 2025کو پہلگام فالس فلیگ آپریشن کوبھی کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو بدنام کرنے اور پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈا کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی پر امن جدوجہد کو ریاستی دہشت گردی کے ذریعے دبانے کی ناکام کوشش کر رہاہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے علاقائی امن کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہوا ہے کیونکہ بھارت مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن ذرائع کے بجائے ظلم و جبر، دھمکیوں اور یکطرفہ اقدامات کو ترجیح دے رہا ہے۔ ماہرین نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ہمیشہ مذاکرات، باہمی احترام اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کی ہے اور عالمی برادری کو بھارت کے غیر مستحکم کردار سے مسلسل آگاہ کیا ہے۔ایک ماہر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دبائو ڈالے تاکہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک بھارت اپنی تصادم اورمحاذ آرائی کی پالیسی ترک نہیں کرتا، خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔





