حیدرآباد:
بھارت قانونی طور پر سندہ طاس معاہدے سے انحراف نہیں کر سکتا۔سندھ طاس معاہدہ عالمی نوعیت کا ہے جس کی کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ خلاف ورزی ممکن نہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ان خیالات کا اظہار ترجمان وفاقی حکومت برائے سندھ راجا خلیق الزمان انصاری نے ایک انٹرویو میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارتی سیاستدانوں کی جانب سے اس حوالے سے بیانات سامنے آئے ہیں۔ تاہم بھارت قانونی طور پر اس معاہدے سے انحراف نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے حوالے سے پاکستان کا قانونی موقف مضبوط ہے اور ملک نہ صرف قانونی سطح پر بلکہ خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی بین الاقوامی فورمز پر اپنا کیس موثر انداز میں پیش کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں عالمی بینک کا ثالثی کردار بھی شامل ہے لہذا کسی ایک ملک کے لیے یکطرفہ اقدام کرنا ممکن نہیں۔ راجا خلیق الزمان انصاری نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات محض دبا ئوبڑھانے کی کوشش ہے، تاہم پاکستان ہر سطح پر اپنے مفادات کا دفاع کرنا جانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے حالیہ کشیدگی کے دوران بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس سے دشمن کو واضح پیغام ملا کہ پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں۔انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکمت عملی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آیا ، دنیا کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔







