مقبوضہ کشمیر :کشمیریوں کو انکی زمینوں سے جبری بے دخلی کی مہم جاری
پلوامہ :جھوٹے مقدمے میں ایک اور کشمیری کی اراضی ضبط
سرینگر:
غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں مودی کی بھارتی حکومت کشمیریوں کو انکی املاک اور زمینوں سے جبری بے دخل کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک اورکشمیری کی تین کنال سے زائد اراضی ضبط کر لی ہے ۔ این آئی اے نے 2020میں درج ایک جھوٹے مقدمے میں کشمیری شہری تنویر احمد وانی کی ضلع کے علاقے راج پورہ ابہامہ میں 3کنال اور4مرلہ اراضی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت ضبط کی ہے ۔ اس اقدام کا مقصد کشمیریوں کو ان کی زمینوں اور جائیدادوں سے جبری بے دخل کر کے مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنا ہے تاکہ وادی کشمیرکی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے ۔قابض انتظامیہ کے مطابق تنویر احمد کی اراضی آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور آزادی پسند کارکنوں کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے پر ضبط کی گئی ہے ۔ کشمیریوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کیلئے ان الزامات کااکثروبیشتر استعمال کیاجاتاہے ۔




