قابض حکام نے شوپیاں میں دارالعلوم کو غیر قانونی قرار دے دیا
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے ضلع شوپیاں میں ایک اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے) کے تحت غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت قابض انتظامیہ نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے ساتھ روابط کا الزام لگاتے ہوئے شوپیاں کے علاقے امام صاحب میں قائم ادارے کو غیر قانونی قرار دیا۔ حکام نے بتایا کہ یہ اعلان یو اے پی اے کے تحت ڈویڑنل کمشنر کشمیر انشول گرگ کے ذریعہ جاری کردہ ایک حکم نامے کے ذریعے کیا گیا ہے۔حکمنامے کے مطابق یہ کارروائی شوپیان کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی طرف سے جمع کرائے گئے ایک ڈوزیئر کے بعد کی گئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ادارہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے وابستہ ہے جس کو 2019 میں بھارتی حکومت نے کالعدم قرار دیاتھا۔






