مودی حکومت مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے مختلف بہانے تلاش کررہی ہے
نئی دہلی : مودی حکومت اوربھارتی میڈیا ریاست مہاراشٹر میں چاقوزنی کے ایک واقعے کو اسلامو فوبیا کو ہوا دینے اور مسلمان مخالف بیانیے کو تقویت دینے کے لیے سنسنی خیز بنا رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق زیب زبیر انصاری نامی ایک شخص نے مبینہ طور پر تھانے کے علاقے میرا روڈ پر دو سیکورٹی گارڈز پر چاقو سے حملہکیا۔بھارتی میڈیا نے فوراً اس واقعے کا موازنہ پچھلے سال پیش آنے والے پہلگام واقعے سے کرنا شروع کردیا، حالانکہ ملزم کا کسی منظم گروپ یا وسیع نیٹ ورک سے تعلق کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔بھارتی حکام نے کیس کو انسداد دہشت گردی اسکواڈ کو منتقل کر دیا جس نے ملزم کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پرانفرادی حملوں اور نام نہاد اسلامک اسٹیٹ سے منسلک دستاویزات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ چھاپے کے دوران مبینہ طور پر ایک لیپ ٹاپ اور قرآن پاک کے نسخے قبضے میں لیے گئے۔سیاسی تجزیہ کاروں اور شہری حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ جلد بازی میں واقعے کو دہشت گردی سے جوڑنا بھارت میں ایک ایسے رحجان کی عکاسی کرتا ہے جہاں مسلمانوں کے جرائم کو فوراً فرقہ وارانہ رنگ دیا جاتا ہے اور پوری کمیونٹی کو مجرم قراردیاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس میں قرآن پاک کے بار بار ذکر کا مقصد اسلام کو تشدد سے جوڑنا اور مسلم مخالف جذبات کو بھڑکانا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت امتیازی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور عدم برداشت کو روکنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لیے اس واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہی ہے۔






