29 اپریل 1865 کو2درجن سے زائد کشمیری شال بافوں نے ڈوگرہ راج کے جبر کے خلاف جانوں کا نذرانہ پیش کیا
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر کے گرمائی دارلحکومت سرینگر کے علاقے ذالڈگر میں 29 اپریل 1865 کودو درجن سے زائد محنت کش شال بافوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ڈوگرہ مہاراجہ کے مظالم کے خلاف مزاحمتی تحریک کی بنیاد ڈالی تھی۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کشمیری شال باف ڈوگرہ راج کے ظلم وجبر اور بے جا ٹیکس کے خلاف اور اپنے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے لئے ذالڈگرکی طرف ایک پرامن مارچ کر رہے تھے کہ ڈوگرہ فوج کے گورنر دیوان دیوتا راج نے اسے بغاوت کا نام دیکر کرنل بیجا سنگھ کی قیادت میں سپاہیوں کو ذالڈگر کی طرف بھیج دیا۔ ڈوگرہ سپاہیوں نے پرامن جلوس کو چاروں طرف گھیر کر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے 28 شال باف شہید ہوئے اور سینکڑوں مظاہرین اپنے آپ کو بچانے کے لیے جہلم میں کود گئے۔ ان میں سے درجنوں دریا میں ڈوب گئے۔ ڈوگرہ سپاہیوںنے بڑی تعداد میں مظاہرین کوگرفتار بھی کیا۔
مزدور دشمن ٹیکس کیخلاف کشمیری شال بافوں کی یہ جدوجہد جدید دنیا کی پہلی منظم آواز تھی۔ ان عظیم محنت کشوں کی یہ قربانی رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔






