نئی دہلی میں نوعمر مسلمان طالب علم کو چاقو سے وارکرکے قتل کر دیا گیا

نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک نوعمر مسلمان طالب علم کو چاقو سے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 16 سالہ مسلمان لڑکے ایان سیفی کو مشرقی دہلی کے علاقے ترلوک پوری میں مذہبی بنیادوں پر حملہ کر کے قتل کر دیا گیا۔اہل خانہ کے مطابق ایان ایک دوست کے ساتھ پارک میں کھیل رہا تھا کہ 30 سے 35 سال کی عمر کے آٹھ سے دس افراد نے اسے گھیر لیا اور حملہ کیا۔ اہلخانہ نے صحافیوں کو بتایاکہ حملہ آور لڑکے نہیں تھے بلکہ بھاری ساخت کے آدمی تھے جبکہ ایان صرف 16 سال کا لڑکاتھا۔ حملہ آوروں نے اس کے کمر، پیٹ، ٹانگوں میں بار بار وار کیا اور اس کے ہاتھ کو شدید زخمی کردیا۔ایان کو فوری طور پر لال بہادر شاستری ہسپتال لے جایا گیا اور بعد میں اسے شدید زخموں کی وجہ سے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقلکر دیا گیا۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب وہ کچھ دیر کے لیے ہوش میں تھا تو پولیس نے ان کا بیان ویڈیو پر ریکارڈ کیا ۔ اہلخانہ کا کہنا تھا کہ ایان کو پہلے سے دھمکیاں مل رہی تھیںجس کی وجہ سے اس نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی،لیکن حکام نے کوئی موثر کارروائی نہیں کی۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ حملہ سوچ سمجھ کر کیاگیاہے۔ایان کی والدہ مینا نے انصاف کا مطالبہ کرتے کہا کہ جس طرح مارچ میں اتم نگر میں ترون نامی شخص کے قتل کے بعد سخت کارروائی کی گئی اورملزموں کے گھروں کو نذرآتش کیاگیا ، اسی طرح کی کاررروائی یہاں بھی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ جب ترون کو مارا گیا تو بلڈوزر استعمال کیے گئے۔ اہلخانہ کا اصرارہے کہ ایان کو مذہبی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔16 سالہ ایان سیفی مینا کا اکلوتا بیٹا تھاجوتعلیم حاصل کرنے ساتھ ساتھ گھر کے کاموں میں ماں کا ہاتھ بھی بٹاتا تھا۔







