لداخ کی تنظیم نو خطے کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش ہے

کرگل : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ضلع کرگل کے رہنماو¿ں نے لداخ کی حالیہ تنظیم نو پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے امتیازی اور خطے کو مذہبی بنیادوں پرتقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق27 اپریل کو لیفٹیننٹ گورنر ونائی کمار سکسینہ نے پانچ نئے اضلاع نوبرا، شام، چانگتھانگ، زنسکار اور دراس کی منظوری دی جس سے لداخ میں اضلاعکی کل تعداد دو سے بڑھ کر سات ہوگئی۔کرگل کے رہنماﺅں نے کہا کہ سات میں سے صرف کرگل اور دراس مسلم اکثریتی اضلاع ہیں جبکہ پانچ میںبدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم نو میں لداخ کی 2011 کی مردم شماری کو نظر انداز کیا گیا ہے جس میں 46.40 فیصد مسلمان اور 39.65فیصد بدھ مت کے پیروکار دکھائے گئے ہیں۔انہوں نے اس اقدام کوغیر متوازن قرار دیا ہے۔رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ جان نے کہا کہ سانکو سورو اور شکر چکتان کو ضلع کا درجہ دینے کے دیرینہ مطالبات کو نظر انداز کیے جانے کے بعد کمیونٹی خود کو الگ تھلگ محسوس کررہی ہے۔ سی ای سی ڈاکٹر جعفر آخون نے فیصلے کوغیر متوازن اور امتیازی قرار دیا۔کے ڈی اے کے رہنما سجاد کرگلی نے کہا کہ یہ اقدام اصلاحات کے بجائے چھٹے شیڈول میں شمولیت اور ریاستی درجے کے لئے لداخ کی متحدہ آواز کو توڑنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش لگتیہے۔انہوں نے دراس اور زنسکار کی شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سانکو سورو اور شکر چکتان کو نظر انداز کرناعلاقائی حساسیت اور مساوی نمائندگی کی نفی کرتا ہے۔اس طرح کے اقدامات سے تقسیم مزید گہری ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہاکہلداخ کی طاقت اتحاد میں ہے اور اسے فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔





