بھارت

بھارت کی آمرانہ میڈیا سنسرشپ مشین بے نقاب

پاک بھارت جنگ کے دوران اختلافِ رائے پر بھارت بھر میں سخت کریک ڈاون

نئی دلی:گزشتہ سال مئی میںپاک-بھارت جنگ کے دوران مودی کی بھارتی حکومت کی جانب سے میڈیا، صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے خلاف سخت کریک ڈئون نے بھارت میں آزادی اظہار اور جمہوری اقدار سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے قومی سلامتی کو بنیاد بنا کر اختلافی آوازوں کو دبانے کیلئے وسیع پیمانے پر سنسرشپ اور گرفتاریوں کا سہارا لیا۔22اپریل 2025کو پہلگام فالس فلیگ میں 26سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے 7مئی کو آپریشن سندورکے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر کی شہری آبادی پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ۔ بعد ازاں پاکستان کے منہ توڑ جواب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوئی جو 10مئی کوامریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی کوششوں کی وجہ سے جنگ بندی پر ختم ہوئی۔تاہم مبصرین کے مطابق جنگ بندی کے فورا بعد بھارتی حکومت کی توجہ اندرونِ ملک بیانیے پر کنٹرول اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے پر مرکوز ہو گئی۔ بھارتی حکام نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000کی دفعہ 69Aکے تحت بڑے پیمانے پر آن لائن پابندیاں عائد کیں۔مودی حکومت نے کم سے کم 16پاکستانی یوٹیوب چینلز، جن میں ڈان نیوز، جیو نیوز، سما ٹی وی اور جی این این شامل تھے کوبھارت میں بند کر دیاگیاجبکہ ان پر غلط معلومات اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے کا الزام بھی لگایا گیا۔اسی دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر 8ہزارسے زائد اکائونٹس بلاک کیے گئے، جن میں پاکستانی، کشمیری، بھارتی اور بعض غیر ملکی میڈیا اداروں سے وابستہ صارفین کے اکائونٹس بھی شامل تھے۔ متاثر ہونے والے اداروں میں بی بی سی اردو، چینی میڈیا شنہوا اور ترک نشریاتی ادارے ٹی آرٹی ورلڈ ، گلوبل ٹائمز، اور بنگلہ دیش کے چھ یوٹیوب چینلز شامل تھے۔ مودی حکومت نے بی بی سی اردو کو مسلسل غلط معلومات اور جانبدار رپورٹنگ کے الزام لگا کر بند کیا۔ میڈیا پابندیوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اپریل سے جولائی 2025کے درمیان کم سے کم 125 افراد کو ملک دشمن، پاکستان نواز یا آپریشن سندور پر تنقید کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ صرف آسام میں 94افرادکوگرفتارکیاگیاجن میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے جنرل سیکریٹری امین الاسلام بھی شامل تھے، جن کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ان گرفتار افراد میں سینئر کشمیری صحافی ہلال میر اور کیرالہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی ریجاز ایم شیبا صدیق کو سوشل میڈیا پوسٹ میں آپریشن سندور پر تنقید کرنے پر گرفتار کیاگیا۔بعدازاں ان پر کالے قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمات درج کئے گئے ۔اسی طرح اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کو بھی سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے پر گرفتار کیا گیا۔بین الاقوامی میڈیا واچ ڈاگزبشمول رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرزاور کمیٹی ٹو پروٹیکیٹ جرنلسٹس شامل نے بھارتی اقدامات پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہیں آزادی صحافت اور جمہوری اقدار کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق 2025کی جنگ نہ صرف دوہمسایہ جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا ہی باعث نہیں بنی بلکہ اس نے بھارت میں آزادی اظہار، ڈیجیٹل حقوق اور صحافتی آزادی کے مستقبل پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کہناہے کہ آیا دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کا دعویدار بھارت اختلاف رائے برداشت کرنے کی صلاحیت کھو رہا ہے یا قومی سلامتی کے نام پر ایک سخت گیر ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button