اکیڈمک فریڈم انڈیکس 2026نے بھارت کے وشوا گرو بیانیے پر سوالات اٹھا دیے
مودی کے بھارت میں آزادی اظہار اور اکیڈمک خودمختاری دبائو کا شکار، عالمی رپورٹ
نئی دلی :سویڈن کے ”وی ڈیم انسٹیٹیوٹ ”کی جانب سے جاری کردہ ” اکیڈمک فریڈم انڈیکس 2026”نے بھارت میں اکیڈمک آزادی، جمہوری اقدار اور ادارہ جاتی خودمختاری کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رپورٹ میں بھارت کو عالمی سطح پر نچلے 10تا 20فیصد ممالک میں شامل کیا گیاہے، جس کے بعد بھارتی حکومت کے وشوا گرو یا عالمی لیڈر کے دعوئوں پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔رپورٹ میں بھارت کو179ممالک کی فہرست میں 156ویں پوزیشن پر رکھا گیا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران بھارت میں اکیڈمک آزادی میں مسلسل اور نمایاں تنزلی دیکھی گئی۔ وی ڈیم انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت کا اسکور 2022میں 0.38 تھا جو حالیہ عرصے میں مزید کم ہوکر0.16تک پہنچ گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیق اور تدریس کی آزادی میں کمی، تعلیمی اداروں کی خودمختاری کا خاتمہ، اکیڈمک و ثقافتی اظہار پرقدغن اور نظریاتی مداخلت اس تنزلی کی اہم وجوہات ہیں۔ مبصرین کے مطابق حکومتی پالیسیوں کے نقاد اسکالرز اور اساتذہ کوبڑھتے ہوئے دبائو، نگرانی اورسنسرشپ کا سامنا ہے ۔وی ڈیم انسٹیٹیوٹ نے کثرتیت مخالف سیاسی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو اس تنزلی کی بڑی وجہ قرار دیا جبکہ ناقدین نے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی پر اعلیٰ تعلیمی اداروں کو نظریاتی کنٹرول میں لینے اور مخصوص نظریاتی ایجنڈا مسلط کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔کثرتیت ایک ایسا نظریہ ہے جس میں مختلف مذاہب، ثقافتیں، نظریات اور سیاسی آرا ایک ساتھ پرامن طریقے سے موجود رہتے ہیں۔اکیڈمک آزادی کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی اشاریوں میں بھی بھارت کی کارکردگی تنقید کی زد میں رہی۔ فریڈم ہائوس نے بھارت کو جزوی طور پر آزاد ملک قرار دیاہے جبکہ رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز کے پریس فریڈم انڈیکس 2026میں بھارت 180ممالک میں 157ویں نمبر پر رہاہے جبکہ2025میں اس کی درجہ بندی 151 تھی، جس سے بھارت میں آزادی صحافت کی ابتر صورتحال واضح ہوتی ہے ۔ رپورٹ میں صحافیوں کے خلاف تشدد، میڈیا پر دبائو اور سیاسی آزادیوں میں کمی کو بھارت کی تنزلی کی اہم وجہ قرار دیا گیاہے۔اسی طرح انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی 2026رپورٹ میں پولیس اور دوران حراست ہلاکتوں ، ماورائے عدالت قتل اور اقلیتوں کے خلاف کارروائیوں پر سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق اختلافِ رائے، انسانی حقوق اور شہری آزادیوںکی خلاف ورزیاں تیزی سے جاری ہیں ۔بھارت کو بھوک، ماحولیاتی آلودگی اور سماجی عدم مساوات کے شعبوں میں بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔گلوبل ہنگر انڈیکس 2025میں بھارت 102ویں پوزیشن پر رہا جبکہ غذائی قلت اور بچوں میں نشوونما کی کمی کو ایک بڑا قومی بحران قرار دیا گیا۔گلوبل سلیوری انڈیکس کے مطابق جدید غلامی کا شکار افراد کی سب سے زیادہ تعداد بھارت میں موجود ہے، جو تقریبا 11 ملین ہے ۔ اسی طرح کلائمنٹ چینج پرفارمنس انڈیکس ، انوئرمنٹل پرفارمنس انڈیکس اور گلوبل سافٹ پاور انڈکس میں بھی بھارت کی درجہ بندی کمزور رہی۔سیاسی اشاریے میں بھارت 160ویں نمبر پر رہا، سیاسی حقوق میں 40میں سے 31جبکہ شہری آزادیوں کے انڈیکس میں 60میں سے 31نمبر دیے گئے۔لبرل ڈیموکریسی انڈیکس اور کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں بھی بھارت کو تنزلی کا سامنا ہے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر یہ بین الاقوامی اشاریے اور رپورٹس بھارت کی گورننس، جمہوری اداروں کی کمزوری، انسانی حقوق، میڈیا اوراظہارائے کی آزادی، سماجی تحفظ ، عدم مساوات اور ماحولیاتی پائیداری کی ایک تشویشناک تصویر پیش کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اکیڈمک آزادی، آزاد صحافت اور انسانی حقوق کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی ستون ہوتے ہیں اور ان شعبوں میں مسلسل تنزلی عالمی سطح پر کسی بھی ملک کی ساکھ اور سافٹ پاور کو متاثر کر سکتی ہے۔






