پاکستان خطے میں امن، سفارتکاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے
ملکی خودمختاری، سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ترجمان دفترخارجہ
اسلام آباد:
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، سفارتکاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، تاہم ملکی خودمختاری، سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ترجمان دفترخارجہ نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ آج معرکہ حق کی پہلی سالگرہ منائی جا رہی ہے، جبکہ پانچ مئی کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سفارتی کور کو معرکہ حق کے حوالے سے خصوصی بریفنگ دی تھی۔بھارت سے تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہے۔ کشمیر، آبی مسائل اور علاقائی سلامتی سمیت تمام معاملات پر پاکستان کا موقف قانونی بنیادوں پر قائم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان پر کسی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی تو بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے تمام قانونی اور سفارتی آپشنز استعمال کرے گا۔ دریاوں کے بہائو اور پانی کی مقدار کا مکمل ریکارڈ رکھا جا رہا ہے اور حکومت کے تمام متعلقہ ادارے اس معاملے پر متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی قابلِ اعتماد کم از کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی عسکری جدید کاری کے اثرات سے پاکستان مکمل طور پر آگاہ ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے ذریعے اپنی دفاعی تیاری مزید مضبوط بنا رہا ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستان کے دفاعی تعلقات پر اعتراضات کے حوالے سے طاہر اندرابی نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دفاعی تعلقات مضبوط ادارہ جاتی بنیادوں اور باہمی اعتماد پر قائم ہیں اور بھارت کی سفارتی کوششیں ان تعلقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔ترجمان نے واضح کیا کہ بھارتی ریاستوں میں انتخابات بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، تاہم پاکستان کبھی بھی بھارت سے بامعنی مذاکرات سے نہیں کترایا۔




