بھارت لداخ مذاکرات پر تاخیری حربے استعمال کررہاہے

لہہ:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لداخ خطے کے بارے میں بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے بلائے گئے اہم اجلاس میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور لہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس سمیت اہم اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک کوئی باضابطہ دعوت نامہ، اجلاس کاایجنڈا یا مقام اور وقت کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیرنگ ڈورجے لاکروک نے تصدیق کی کہ 22 مئی کو ہونے والے اجلاس کے باوجود کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیاگیا۔لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونائی کمار سکسینہ نے اپریل میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے لداخ کے دورے سے قبل 22 مئی کی تاریخ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ایل اے بی اورکے ڈی اے ذیلی کمیٹی کے بجائے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے اجلاس کا مطالبہ کر رہے ہیں جو وزارت داخلہ اور مقامی حکام کے زیر صدارت ہو۔دونوں تنظیمیں لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پانچ سالوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہناہے کہ نئی دہلی بنیادی سیاسی مطالبات سے دوربھاگ رہی ہے۔







