مودی کے دورے کے موقع پر ناروے کی پارلیمنٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ
شرکاء کے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اورمودی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کیخلاف نعرے

اوسلو:اوسلو میں ناروے کی پارلیمنٹ کے باہر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرے کا اہتمام تحریک کشمیر ناروے نے کیا تھا جس میں لوگوںکی بڑی تعداد نے شرکت کی۔شرکا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کی طرف سے جاری مظالم کی شدید مذمت کی۔مظاہرے کے مقررین میں تحریک کشمیر ناروے کے جنرل سیکرٹری چوہدری ناصر، لیبر پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ خالد محمود، ڈاکٹر مبشر بنارس اور میریل لیرانڈ شامل تھے۔مقررین نے اپنے خطاب میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ناروا سلوک پر مودی کی بھارتی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بھارت میں مودی حکومت کی مسلم دشمن اور اقلیت مخالف پالیسیوں کی بھی مذمت کی۔شرکا نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی ہندوتوا پر مبنی پالیسیاں نہ صرف مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں بلکہ ان کا مقصد بھارت بھر میں دیگر اقلیتی برادریوں کو آواز دبانا بھی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری بالخصوص ناروے پر زور دیا کہ وہ مودی حکومت کو جوابدہ ٹھہرائے اور مقبوضہ کشمیر اور اقلیتوں کے حوالے سے اس کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات کے خلاف اپنے غصے کے اظہار کے لیے مودی دہشت گرد، بھارت کشمیر چھوڑ دو اور گجرات کے قصائی کے نعرے لگائے۔







