اتر پردیش : پانی لینے پر اونچی ذات کے ہندوئوں کا دلت نوجوان پروحشیانہ تشدد

کانپور: بھارتی ریاست اتر پردیش میں اونچی ذات کے ہندوئو نے ایک 16سالہ دلت نوجوان کو مبینہ طور پر پانی لینے پروحشیانہ تشددکا نشانہ بنایا اور اس کی تذلیل کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ریاست کے علاقے جھکھڑا-سمبھر پور گائوں میں پیش آیا۔ متاثرہ نوجوان نے الزام لگایا کہ چند افراد نے عوامی ہینڈ پمپ پر بالٹی استعمال کرنے پر اسے وحشیانہ تشددکا نشانہ بنایا۔متاثرہ لڑکے جو ایک کھیت مزدور کا بیٹا بتایا جاتا ہے کے مطابق سنجے راجپوت، دیپک، ساگر کمار اور پاتیا کمار نامی افراد نے اس سے برتن چھین لیا، مبینہ طور پر ذات پات سے متعلق توہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور پانی آلودہ کرنے کا الزام لگایا۔نوجوان نے میڈیا کو بتایا کہ اسے اونچی ذات کے ہندوئوں نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایااور اس کے والد کو بھی مداخلت کرنے پر مبینہ مارا پیٹا گیا۔ اطلاعات کے مطابق واقعے میں نوجوان کا بازو جبکہ اس کے والد کی پسلی متاثر ٹوٹ گیا۔انہوں نے کہاکہ ہندوئوں نے اس کے ساتھ تضحیک آمیز سلوک کیا اور اپنے جوتے چاٹننے پر مجبور کیا ۔انڈین نیشنل کانگریس اتر پردیش شاخ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ذات پات پر مبنی امتیاز اور سماجی عدم مساوات کی مثال قرار دیاہے۔ پارٹی رہنمائوں نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔واقعے نے ایک بار پھر بھارت میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور کمزور طبقات کے تحفظ سے متعلق بحث کو تیز کر دیا ہے۔







