بھارت

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی ہندو انتہاپسند گروپ آر ایس ایس پر پابندی کی سفارش

نئی دلی:امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ہندو انتہا پسند گروپ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر پابندی کی سفارش کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق خبر ایجنسی رائٹرز کی ایک رپورٹ میں کہاگیاہے کہ امریکی کمیشن نے آر ایس ایس کو اقلیتوں کے خلاف تشدد اور عدم برداشت سے جوڑاہے اور اپنی سفارشات میں آر ایس ایس کے اثاثے منجمد کرنے اور امریکامیں داخلے پر پابندی کی تجاویز دی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق آرایس ایس نے پابندیوں سے بچنے کے لیے عالمی لابنگ مہم شروع کردی، دبا ئوبڑھنے کے بعد آر ایس ایس کے رہنما امریکا،برطانیہ اور جرمنی میں سرگرم ہوگئے،دلی میں آرایس ایس کے جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسابالے نے بریفنگ دی۔رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس نے بھارت میں ہندوتوا اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کے نظریے کو فروغ دیا۔ آر ایس ایس کئی بار اپنے شدت پسند رجحانات کے باعث پابندیوں کی زد میں رہی ہے،بی جے پی کے دور حکومت میں آر ایس ایس کی نفرت انگیز سیاست کو عروج ملا۔رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رام مندرکی تعمیراورکشمیرکی خصوصی حیثیت کاخاتمہ آرایس ایس ایجنڈیکی بڑی کامیابیاں قرارپائیں۔خبر ایجنسی کے مطابق آر ایس ایس رہنما مودی حکومت پر سے مذہبی شدت پسندی کا لیبل ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں،1925 سے قائم آر ایس ایس مہاتما گاندھی کے قتل میں بھی ملوث رہی ہے۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اپنے شدت پسند نظریات کے باعث عالمی سطح پر دبائو میں ہے، مودی کی آر ایس ایس سے وابستگی نے بھارت کے شائننگ انڈیا بیانیے کا خاتمہ کر دیاہے ۔ اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد انگیز کارروائیاں یورپ بھارت تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button