پاکستان

پاکستان کی متحرک سفارت کاری سے مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ ٹالنے میں مدد ملی

اسلام آباد : قیام امن کے لئے پاکستان کی متحرک سفارت کاری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تزویراتی قیادت مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کو روکنے کے لیے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کوششوں کا ایک اہم عنصر ہے جس سے ایران کے معاملے پر ممکنہ سفارتی پیش رفت کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بین الاقوامی سفارتی کوششوں کو اس وقت مزید تقویت ملی جب مارکو روبیو نے اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر کچھ دنوں کے اندر پیش رفت ہو سکتی ہے جس سے خطے میں جو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر تھا، کشیدگی میں کمی کی امیدیں بڑھ گئیں ۔مارکو روبیو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر پیش رفت کا ایک موقع موجود ہے جوایک دو دنوں میں سامنے آسکتی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتی کوششوں سے ایک اچھی خبرآسکتی ہے۔سیاسی اور سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بحران کے نازک مرحلے پر مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور تناو¿ کو کم کرنے میں اہم، ذمہ دارانہ اور تعمیری کردار ادا کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہاں کئی عالمی طاقتوں نے تباہ کن علاقائی جنگ کے بارے میں خبردارکیاتھا، پاکستان نے مسلسل سفارت کاری، تحمل اور پرامن مذاکرات کی وکالت کی۔مبصرین نے خاص طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی غیر معمولی سفارتی کوششوں کو اجاگرکرتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت کوششوں اور پس پردہ رابطہ کاری نے اس وقت مذاکرات کے لیے سفارتی جگہ بنانے میں مدد کی جب خطے کو بڑے پیمانے پر کشیدگی اور تباہی کا سامنا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے محاذ آرائی پر مذاکرات اور تنازعات پر امن کوترجیح دے کر اسٹریٹجک پختگی اور بین الاقوامی ساکھ کا مظاہرہ کیا۔ تجزیہ کاروں نے بتایاکہ پاکستان نے جلتی پر تیل نہیں ڈالا بلکہ اس نے مذاکرات کی طرف ایک راستہ کھولا۔ماہرین نے کہا کہ سفارتی پیش رفت نے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات کے ساتھ پاکستان کی بڑھتی ہوئی مطابقت کو تقویت دی ہے جس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اسلام آباد خاموش تماشائی نہیں بلکہ امن و استحکام کے لیے ایک ذمہ دار اور فیصلہ کن اسٹیک ہولڈر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ممالک اور حلقے جو کبھی پاکستان کی سفارتی مطابقت پر سوال اٹھاتے تھے اب کشیدگی میں کمی اور وسیع تر تنازعات کو روکنے میں اسلام آباد کے تعمیری کردار کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ دنیا کے لیے پاکستان کا پیغام واضح اور دوٹوک ہے: ”تباہی پر سفارت کاری اورمذاکرات اور کشیدگی پر امن کو ترجیج دینی چاہیے“۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button