بھارت

بی جے پی کی بڑھتی ہوئی فسطائیت،امیت شاہ کی حزب اختلاف کو مجرم بنانے کی سیاست

نئی دہلی:بھارت میں سیاسی تجزیہ کاروں اورماہرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی انتہائی خطرناک سیاست کررہی ہے جو نہ صرف جمہوریت کے لئے کاری ضرب کے مترادف ہے بلکہ ملک کی بقاء کے لئے بھی انتہائی نقصاندہ ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تجزیہ کاروں نے وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف سے اپوزیشن کے امیدوار برائے نائب صدر جسٹس بی سدرشن ریڈی کونکسل وادیوں کا حامی ہونے کا الزام لگانے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ رویہ اس حکومتی بیانیے کا حصہ ہے جس میں اختلافِ رائے کو جرم اور آئینی فیصلوں کو غداری بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ امیت شاہ کابیان اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ بی جے پی اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے جسٹس ریڈی کو دہشت گردی اور نکسل پسندی کے ساتھ جوڑ کر بدنام کرنا چاہتی ہے۔ یہ رویہ عدلیہ کی آزادی اور جمہوری تنوع پر براہِ راست حملہ ہے۔جسٹس ریڈی اور جسٹس ایس ایس نجار نے 2011 میں اپنے تاریخی فیصلے میں سلوا جڈوم ملیشیا کو غیر آئینی قرار دیا تھا جو قبائلی نوجوانوں کو خصوصی پولیس بنا کر مسلح کرتا تھا۔ یہ فیصلہ کمزور قبائل کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور انسانی اقدار کی فتح تھا۔ لیکن آج اسی فیصلے کو نکسلزم کی حمایت بنا کر پیش کرنا سچائی کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ تحزیہ کاروں نے کہاکہ یہ طرزِ سیاست بی جے پی کے خطرناک ہتھکنڈے کو ظاہر کرتا ہے۔ جسٹس جے چیلامیشور، جسٹس مدن بی لوکر اور سنجے ہیگڑے جیسے بھارت کے ممتاز ججوں اور قانونی ماہرین نے امیت شاہ کے بیان کو عدلیہ کی آزادی پر براہِ راست خطرہ قرار دے کر مسترد کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ محض انتخابی بیان نہیں بلکہ جمہوریت کے وجود پر ایک کھلا وار ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ایک جج کو جس نے آئین کے اصولوں کو بچایا، غدار کہا جا سکتا ہے تو پھر کشمیریوں، قبائلی عوام اور آزادی کے متوالوں کا کیا مستقبل ہوگا؟انہوں نے کہاکہ یہ زہر آلود ماحول اختلاف کو کچل دیتا ہے اور اکثریتی فسطائیت کو مضبوط کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی حکمرانی کا اصل ماڈل خوف اور نفرت ہے۔ حقائق کو بگاڑ کر سیاسی مخالفین کو دشمن بنانا اور آئینی نگرانی کو سازش قرار دینا جمہوریت کے ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ خطرناک بیانیہ اداروں کی ساکھ تباہ کرتا ہے اور قوم کو تقسیم کرتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق سابق ججوں اور قانونی ماہرین کی مزاحمت اورموقف جمہوریت کے لیے امید کی کرن ہے کہ سیاسی تنقید باوقار اور حقائق پر مبنی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ جب اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے عدالتی فیصلوں کو توڑ مروڑ کر استعمال کیا جائے، تو جمہوریت اپنی بنیاد کھو دیتی ہے۔ عدلیہ کی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور مضبوط اپوزیشن کی موجودگی محض نظریاتی دعوے نہیں بلکہ جمہوری بقا کی شرط ہیں۔ ان کے بغیر بھارت آہستہ آہستہ ایک مطلق العنان نظام کی طرف پھسل رہا ہے جہاں انصاف دفن، خوف غالب اور آزادی کے خواب کچلے جائیں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button