ہرچند ماہ بعد بھارت کے جھوٹے الزامات، نہ کوئی ثبوت اورنہ تحقیقات

اسلام آباد : بھارت کئی برسوںسے مسلسل یہ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ سرحد پارسے ڈرونز کے ذریعے ہتھیار، دھماکہ خیز مواد اور منشیات اسمگل کئے جا رہے ہیں لیکن مسلسل الزامات کے باوجو مودی حکومت بین الاقوامی سطح پر قابل قبول، شفاف، آزادانہ طور پر قابل تصدیق ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہر چند ماہ بعد بھارت کا بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارہ ”این آئی اے“ پاکستان سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک کی کہانی کاڈرامہ رچاتاہے جس کے بعد چھاپے، میڈیا لیکس اور سنسنی خیز خبریں چلائی جاتی ہیں۔ کہانی ایک جیسی ہوتی ہے اوران میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی،صرف نام اور مقامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔تازہ ترین الزامات میں بھی یہی اندازاپنایاگیا ہے جس میں بلند وبانگ دعوے کئے گئے ہیں،باربار پاکستان کا نام لیا جارہا ہے،ٹیلی ویژن اسکرینوں پر قیاس آرائیوں کا سیلاب ہے اور عوام سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ الزامات کو ہی ثبوت کے طور پر قبول کریں۔پراسرارپاکستانی ہینڈلرز، خفیہ رابطوں اور ایجنسیوں کے ذریعے تیار کردہ اعترافی بیانات کا حوالہ دیکربار بار حتمی ثبوت کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ تاہم عوامی طور پر دستیاب فرانزک ثبوت کہاں ہے؟ تصدیق شدہ مالی لین دین کہاں ہے؟ اس طرح کے غیر معمولی دعوﺅں کو ثابت کرنے والی آزاد فریق کی توثیق کہاں ہے؟یہ الزامات اکثر اس وقت سامنے آتے ہیں جب بھارت کو اندرونی سیاسی دباو¿، پنجاب میں بدامنی، بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی یا داخلی سلامتی کی ناکامیوں کے بارے میں مشکل سوالات کا سامنا ہوتاہے۔ پاکستان پر الزام تراشی بھارت کے اندر پیدا ہونے والے مسائل سے توجہ ہٹانے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔یہاں تک کہ واقعات کے بارے میں بھارت کے اپنے موقف کو تسلیم کرنا بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ بڑے پیمانے پر آپریشنز کے لیے وسیع سطح پر مقامی سہولت کاری، لاجسٹک سپورٹ اور اندرونی نیٹ ورکس کی ضرورت ہوتی ہے۔باربارسرحد پارکی طرف انگلیاں اٹھا نے سےملکی سلامتی کی سنگین کمزوریاں دور نہیں ہوسکتیں۔






