مقبوضہ جموں و کشمیر

میرواعظ عمرفاروق کا مولوی مشتاق احمدکو ان کی22ویں برسی پر خراجِ عقیدت

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے سماجی اورسیاسی کارکن، عوامی ایکشن کمیٹی کے سینئر رکن اور اپنے مرحوم چچا شہیدمولوی مشتاق احمد کو ان کی 22ویں برسی پر شاندار خراج عقید ت پیش کیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ سماج اور تنظیم کے لیے مرحوم کی خدمات نہایت گراں قدر اورناقابلِ فراموش ہیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔میرواعظ نے کہا کہ شہید مولوی مشتاق احمد خانوادئہ میرواعظ کے نہایت محبوب اور محترم فرد تھے جو اپنی غیر معمولی شفقت، ہمدردی، ایثار اور عوامی خدمت کے جذبے کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں، محتاجوں اور عام لوگوں کی مدد و خدمت کے لیے ان کی بے لوث وابستگی نے انہیں معاشرے اور تنظیم کا ایک قیمتی سرمایہ بنا دیا تھا، اور ان کی کمی آج بھی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہید مولوی مشتاق احمد مصالحت، امن اور مکالمے کے پرزور داعی تھے۔ وہ معاشرے اور عوام کے وسیع تر مفاد کے لیے ان افراد سے بھی رابطہ رکھتے تھے جن سے ان کا نظریاتی اختلاف ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دراصل اسی مفاہمت اور بات چیت کے نظریے کی وکالت کی قیمت انہیں اپنی جان دے کر چکانی پڑی، جب وہ ایک مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ میرواعظ نے کہا کہ اکتوبر 1965 میں شہید مولوی مشتاق احمد، شہیدِ ملت مولوی محمد فاروق کے ہمراہ گرفتار کیے گئے اور تقریباً ڈھائی سال سے زائد عرصہ جیل میں رہے، جہاں انہوں نے اپنے نظریات کی خاطر سختیوں اور تفتیشی مراحل کا صبر و استقامت کے ساتھ سامنا کیا۔ اپنی شہادت تک وہ تنظیم کے اصولوں اور نظریات کے ساتھ مخلص رہے اور ان کی ترویج و تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔میرواعظ نے کہا کہ شہیدِ ملت کی شہادت کے بعد مولوی مشتاق احمد ایک مضبوط سہارے کی طرح ان کے ساتھ کھڑے رہے اور مشکل ترین حالات میں ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ میرواعظ نے کہاکہ ان کا بچھڑنا میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک اور بہت بڑا ذاتی صدمہ تھا۔انہوں نے کہا کہ شہید مولوی مشتاق احمد نے اپنی آخری سانس تک اپنے بزرگوں اور خاندان کی اعلیٰ روایات کو برقرار رکھا اور وہ ہمیشہ محبت، احترام اور عقیدت کے ساتھ یاد کیے جاتے رہیں گے۔
دریں اثناءانجمن نصرت الاسلام کے مرکزی دفتر میں ایک خصوصی دعائیہ مجلس کا انعقاد کیا گیا جس میں مولوی مشتاق احمد کی زندگی، خدمات اور قربانیوں کو یاد کیا گیا، فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کے درجات کی بلندی اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button