بھارت :آسام میں مسلمانوں کا امتیازی قانون کے خلاف احتجاج

گوہاٹی: بھارتی ریاست آسام کے ضلع کیچھرمیں مسلمانوں نے حال ہی میں نافذ کیے گئے یکساں سول کوڈ کے خلاف پرامن احتجاج کیا اور اسے امتیازی اور مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق احتجاجی مظاہرہ برینگا میں کیا گیا جہاں مسلمان ایک مقامی مسجد کے باہر جمع ہوئے اور قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ یو سی سی مذہبی آزادیوں کے منافی اور مسلمانوں کے دیرینہ پرسنل لاز کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ بہت سے لوگوں نے اسے مذہب اور شناخت کے معاملات میں مداخلت کی کوشش قراردیاہے۔سابق رکن اسمبلی عطا الرحمن مزربھویا نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ایک ایسا اقدام کررہی ہے جس سے مذہبی آزادی اور آسام کے متنوع سماجی تانے بانے کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون غیر متناسب طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے۔ انہوں نے قانون کے تحت درج فہرست قبائل کو دی گئی چھوٹ پربھی سوال اٹھایا۔اگر کچھ برادریوں کو استثنیٰ حاصل ہے تو پھر مساوات کیسے ہو سکتی ہے؟۔ مظاہرین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس قانون پر نظر ثانی کرے اور اس پر عمل درآمد سے قبل متاثرہ کمیونٹیز کے ساتھ مشاورت کرے۔





